خطبات محمود (جلد 28) — Page 27
سال 1947ء 27 خطبات محمود محنت سے کام کیا ہے ۔ کیونکہ اب تو وعدوں کی فہرستیں بہت آہستہ آہستہ آرہی ہیں اور ان میں کوئی خاص نمایاں زیادتی نظر نہیں آتی ۔ میں نے جماعت کو بارہا اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہماری قربانیاں کسی ایک وقت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں۔ اور جس قسم کی فوری قربانیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کو کرنی پڑی تھیں اُس قسم کی قربانیاں ہم کو نہیں کرنی پڑیں ۔ اور جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ لہ وسلم وسلم کے کے زمانہ زمانہ میں میں صحابہ صحابہ کو تھوڑا عرصہ قربانیاں کرنے کے بعد غلبہ حاصل ہو گیا تھا اُس طرح ہمارے لئے تھوڑا عرصہ مقدر نہیں ۔ صحابہؓ پر قربانیوں کا بے انتہاء بوجھ یکدم ڈالا گیا اور اُن کو تھوڑے سے عرصہ میں بے انتہا کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ مقدر کیا ہے کہ ہماری ترقی صحابہؓ کی نسبت دیر سے ہو۔ اس لحاظ سے ہمارے لئے قربانیوں کا عرصہ بھی لمبا کر دیا گیا ہے تا کہ ہماری قربانیاں صحابہ کی قربانیوں کے مشابہہ ہو جائیں اور ہمارا انعام اور جزا اُن کے انعام اور جزا کے مشابہہ ہو جائے ۔ جو کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بیس سال یا یوں کہو کہ بتیس سال ( کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی بارہ سال تک مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا رہا) میں کرنا پڑا۔ ہمارے متعلق اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہماری جماعت اس کو کتنے وقت میں کر سکے گی ۔ مگر یہ تو ظاہر ہے کہ اس وقت تک سلسلہ کے اعلان کو اٹھاون سال ہو گئے ہیں ۔ اٹھاون سال کے عرصہ میں ابھی ہمارے کام کا خاتمہ پر پہنچنا تو در کنار ابھی تو وہ ابتدائی مراحل میں نظر آتا ہے۔ اور ابھی تک سلسلہ کی ترقی ایسی نہیں کہ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکیں کہ بقیہ حصہ کام کا پانچ سات یا دس سال میں ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہت زیادہ عرصہ ہمیں اپنی قربانیوں کو جاری رکھنا ہوگا ۔ اس معاملہ میں اسلام کی مثال بنی اسرائیل کی سی ہے اور ہم اُن کے نقش بنقش چل رہے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو بہت تھوڑے عرصہ میں فتح و کامرانی حاصل ہوگئی ۔ لیکن حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے زمانہ میں عیسائیوں کو ایک لمبے عرصہ تک قربانیاں کرنی پڑیں اور قریباً تین سو سال کی قربانیوں کے بعد انہوں نے کامیابی و کامرانی کا منہ دیکھا ۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جلد کامیابی ہوگئی اور ہماری کامیابی میں دیر لگے گی ۔ ہاں چونکہ مسیح ناصری سے مسیح محمدی افضل ہے اس لئے اتنا لمبا عرصہ تو نہیں ہو سکتا جتنا کہ عیسائیوں کے لئے مقدر تھا۔ اُس سے تو بہر حال کم ہی