خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 345

سال 1947ء 345 37 خطبات محمود بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے تبلیغ نہایت ضروری چیز ہے ( فرموده 17 اکتوبر 1947 ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : زندہ چیز ہمیشہ بڑھتی ہے اور بے جان چیز اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے اور مردہ چیز گھنی شروع ہو جاتی ہے ۔ حیوان بڑھتا ہے، درخت بڑھتا ہے، پتھر اور لوہا اپنی شکل پر قائم رہتا ہے۔ اور بے جان حیوان ، مردہ حیوان اور مُردہ نباتات یہ چیزیں گھٹنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ جانور کا ۔ جسم تحلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے اور آخر اس کی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ ایک بڑے سے بڑا پہلوان مرنے کے بعد اور تحلیل کا زمانہ آجانے کے بعد صرف ایک مُشتِ خاک رہ جاتا ہے یا چند سیر ہڈیاں اس کی باقی رہ جاتی ہے ۔ بڑے بڑے درختوں کے پتے سوکھ کر چھوٹے ہو جاتے ہیں ۔ اتنے چھوٹے کہ وہ پتے جو سارے درخت کو ڈھانچے ہوئے ہوتے ہیں سوکھ کر ایک چھوٹے سے بکس میں آ جاتے ہیں۔ غرض زندگی کی علامت ہے بڑھنا۔ بے جان ہونے کی علامت ہے اپنی جگہ پر کھڑے ہو جانا۔ اور بیجان سے مراد وہ چیز ہے جس میں جان پڑی ہی نہیں ہوتی اور مرنے والی چیز وہ ہے جس میں پہلے جان ہوتی ہے۔ غرض ہر وہ چیز جس میں پہلے جان نہیں ہوتی اور اس لحاظ سے وہ بے جان ہوتی ہے اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ اور وہ چیز جس میں پہلے جان ہوتی ہے اور پھر نہیں رہتی وہ گھٹنی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ مگر جس طرح لوگوں کو موت یاد نہیں رہتی اسی طرح انہیں یہ قانون بھی بھولا رہتا ہے۔ ہر قدم پر کمزور افراد اور کمزور قو میں ٹھہر نا چاہتی ہیں ۔ وہ ذرا سا چل کر سانس لینا افراد اور میں نا چاہتی ہیں۔ وہ سا کر