خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 337

خطبات محمود 337 سال 1947ء وقت آ جائے جب ہر شخص کے لڑنے کی ضرورت ہو تو پھر بوڑھا بھی لڑے گا اور جوان بھی لڑے کی گا۔لیکن تم اپنی طرف سے نہ چاہو کہ خدا تعالیٰ قادیان پر کوئی ابتلا ءلائے۔اُس سے یہی دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ حکومت کو سمجھ دے کہ وہ وفا دار شہریوں کو دق نہ کرے اور ان لوگوں ٹکرائے جو ہندوستان یونین کے دشمن نہیں بلکہ اُس کے خیر خواہ ہیں۔اور جنہوں نے اپنی پچاس سالہ تاریخ میں اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ وہ قانون شکنی کو کسی صورت میں بھی جائز نہیں سمجھتے۔لیکن با وجود اپنی طرف سے وہ تمام ذرائع استعمال کرنے کے جو آئینی رنگ میں اختیار کئے جاسکتے ہیں اگر پھر مقامی حکام ہمیں مارنے پر تلے ہوئے ہوں اور مقامی حکام کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ میں اب بھی یقین نہیں کرتا کہ اوپر کی حکومت اُن کے اس فعل کی تائید میں ہے ) تو تمہارا نمونہ وہی ہونا چاہیئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس شعر میں بیان فرمایا کہ در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسے کہ لاف تعشق زند منم 12 تمہیں کیا پتہ کہ تمہارے بچے بڑے ہو کر کیسے خبیث ثابت ہوتے۔اگر وہ مارے جائیں گے تو اپنے لئے اور خود تمہارے لئے عزت کا سامان پیدا کریں گے اور ان کا انجام قابل فخر ہوگا۔ور نہ ہو سکتا ہے کہ تم انہیں بچا کر لے آؤ اور وہ چور اور بٹ مار 13 ثابت ہوں اور اس طرح دنیا کی لعنتیں تم پر پڑیں۔بلکہ ہو سکنے کا بھی سوال نہیں اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً تم پر لعنتیں پڑیں گی۔اگر ہمارا سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور یقینا سچا ہے تو اس موقع پر بزدلی دکھانے والے اس طرح پیسے جائیں گے کہ ان کی مثال دنیا میں نہیں ملے گی۔اور دنیا یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گی بلکہ ابھی تم میں سے کچھ لوگ زندہ ہونگے کہ ان دنوں کو یاد کر کے لوگ خواہش کیا کریں گے کہ کاش! اُس وقت ہم اپنی جانیں قربان کر دیتے اور ابدی زندگی حاصل کرتے۔جیسے صحابہ میں سے بعض مرتے وقت روتے تھے کہ کاش ! انہیں شہادت حاصل ہوتی اور ی بستر پر وہ اپنی جان نہ دیتے۔پس اپنے ایمانوں کی خبر لو اور دوسرے لوگوں کے ایمانوں کی بھی خبر لو۔پہلی آگ ہے جو تمہارے سامنے ظاہر ہوئی۔مگر ایک آگ سے قو میں ترقی نہیں کیا کرتیں۔اس کے لئے کئی آگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن ہو سکتا ہے کہ چونکہ یہ ابتلاء لمبا عرصہ رہا ہے اگلے