خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 334

خطبات محمود 334 سال 1947ء حقیقت یہ ہے کہ میں موجودہ فتنہ کو اللہ تعالیٰ کا ایک انعام سمجھتا ہوں کیونکہ اسکے ذریعہ سے مومن اور منافق میں فرق ہوتا چلا جارہا ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کتنے ہیں وہ لوگ جو لمبی لمبی نمازیں پڑھنے والے اور ہر وقت سُبحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کرنیوالے تھے اول درجہ کے کافر ، مرتد اور خبیث ثابت ہو رہے ہیں۔اور کتنے ہیں وہ لوگ جن کے متعلق ہم سمجھتے تھے کہ وہ معمولی ایمان والے ہیں اپنے ایمانوں کا نہایت اعلیٰ درجہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ، وہ مرنے کے لئے بیتاب ہوتے اور ان میں سے ہر شخص دوسرے سے کہتا کہ پہلے میں مرنے کے لئے جاؤ نگا تم کون ہو جو مجھے اس ثواب سے محروم کرتے ہو۔مگر ہوا یہ کہ تم نے اپنی جانیں بچا کر بھاگنا شروع کر دیا۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایسے لوگ ہماری جماعت میں نہیں جو قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھا رہے ہیں۔یقیناً ہیں۔مگر ایسے بھی ہیں جو بہانے بنا بنا کر قادیان سے نکلتے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ باہر ہمارے بیوی بچے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ان کی جا کر خبر لے آئیں۔یہی قرآن کریم میں منافقین کی حالت بتائی گئی ہے۔احزاب کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اُس موقع پر منافق آکر کہتے کہ ہمارے گھروں کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہمیں جانے کی اجازت دی جائے 11۔پھر وہ بھی ہیں جو کشمیریوں کی طرح بزدل ثابت ہوئے ہیں۔جس طرح انہوں نے کہا تھا کہ ہم لڑنے کے لئے تو تیار ہیں مگر ہمارے ساتھ پہرہ ہونا چاہیئے اسی طرح وہ مرنے کے لئے قادیان جاتے ہیں مگر جب وہاں پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہاں تو بڑا فتنہ ہے ہماری حفاظت کی کوئی صورت ہونی چاہیئے۔حالانکہ جو شخص قادیان جاتا ہے وہ جان دینے کے لئے جاتا ہے اور یہ سمجھ کر جاتا ہے کہ میں نے زندہ واپس نہیں آنا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے واپس لے آئے۔میرا تو یہ حال ہے کہ بچے بعض دفعہ جب خط لکھتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں ہماری بیویوں کا کیا حال ہے۔تو میں انہیں لکھا کرتا ہوں کہ یہ بھی گناہ کی بات ہے کہ تمہیں اس وقت اپنی بیویاں یاد آ رہی ہیں۔تمہیں بھول جانا چاہیئے اس بات کو کہ تمہاری کوئی بیوی ہے۔تمہیں صرف یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ تم نے خدا کے لئے اپنی جان قربان کرنی ہے۔پھر بعض مولوی ہیں جن کے متعلق رپورٹیں آتی ہیں کہ وہ ڈر کے مارے تھر تھر کانپتے ہیں۔اور یا تو