خطبات محمود (جلد 28) — Page 295
سال 1947ء 295 خطبات محمود ارد گرد کے علاقوں کی تباہی کا بھی ذکر آتا ہے۔ پھر خصوصیت کے ساتھ جالندھر کا نام آتا ہے ۔اور رویا بتاتی ہے کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوگی ۔ اسی طرح اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ حفاظت قادیان کے لئے ہماری جماعت کو دشمن کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور حلقہ مسجد مبارک آخر دم تک لڑائی لڑے گا ۔ حلقہ مسجد مبارک کے ایک معنی تو صرف مسجد مبارک کے حلقہ کے ہی ہیں لیکن اس کے ایک اور معنی بھی ہو سکتے ہیں جو اتنے خطرناک نہیں ۔ اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مسجد مبارک کے متعلق یہ الہام ہے کہ بَارَكْنَا حَوْلَهَا ہم نے مسجد مبارک اور اُس کے ماحول کو برکت دی ہے۔ پس مسجد مبارک سے مراد قادیان کی مسجد مبارک بھی ہو سکتی ہے اور مسجد مبارک اور اس کا ماحول بھی ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ واقعات بتاتے ہیں کہ ارد گرد سے احمدی دیہات پر حملے ہوئے اور وہ جلا دیئے گئے اور اس طرح دشمن غالب آگیا ۔ لیکن رو یا بتاتی ہے کہ مسجد مبارک اور اُس کے ماحول میں دشمن کو کامیابی نہیں ہوگی ۔ پھر اس خواب کے عین مطابق میں باہر نکلا ۔ اور پھر یہی وہ فتنہ ہے جس میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں اور جالندھر تک خطر ناک تباہی واقع ہوئی ہے۔ اور پھر میرے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ میں اپنی جماعت کے لئے کوئی اور مرکز تلاش کرنے کے لئے باہر نکلوں گا۔ چنانچہ دیکھو میں تلاش مرکز کے لئے ہی لاہور آیا ہوں ۔ اور پھر جیسے رویا میں بتایا گیا تھا کہ لوگ کہیں گے اب تو ہماری آپ کی جماعت پر ہی نظر ہے ویسے ہی واقعات اب رونما ہور ہے ہیں اور لوگوں کی ہماری جماعت پر نظریں پڑ رہی ہے۔ آج ہی کے ”زمیندار“ میں ایک شخص نے لکھا ہے کہ ضلع گورداسپور یا یوں کہیے کہ سارے مشرقی پنجاب میں قادیان ہی ایک ایسا شہر ہے جو ابھی تک بدستور قائم ہے اور جس کے باشندوں نے مشرقی پنجاب میں رہنے کا تہیہ کیا ہوا ہے گویا وہی نظارہ نظر آتا ہے جو اس خواب میں دکھایا گیا تھا کہ منشی جی کہتے تھے اب تو ہماری آپ کی جماعت پر ہی نظر ہے ۔ در حقیقت خواب کا ایک حصہ یہاں بیان کرنے سے رہ گیا تھا۔ خواب میں اس مقام پر میں نے یہ دیکھا کہ جالندھر کے سارے گاؤں بھاگے چلے آ رہے ہیں اور اُن میں سے ایک شخص جو گرد اور یا مدرس ہے بار بار کہتا ہے کہ سب تباہ ہو گئے اور یہ کہ اب تو ہماری جماعت احمد یہ پر ہی نظر ہے۔ پھر خواب یہ بتاتی ہے کہ بیشک قادیان کے کچھ لوگ باہر چلے جائینگے مگر اس لئے نہیں کہ قادیان کو چھوڑ دیں بلکہ اس لئے کہ نئے سرے سے تنظیم کر کے اسلام اور احمدیت کی عظمت قائم کریں۔