خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 263

خطبات محمود 263 (29) سال 1947ء خدا تعالیٰ نے تو ملک کو آزاد کر دیا لیکن ملک نے اپنے آپ کو آزاد نہیں کیا (فرموده 15/اگست 1947ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " آج کا دن ہندوستان کے لئے ایک یومِ برزخ کی سی حیثیت رکھتا ہے۔آج رات کے بارہ بجے کے معاً بعد سے ہندوستان انگریزی اقتدار سے آزاد ہو چکا ہے اور اب یہ ملک دو آزاد حکومتوں میں بٹ گیا ہے۔اس کا ایک حصہ انڈین ڈو مینی Indian Domini) کہلاتا ہے اور ایک حصہ پاکستان کہلاتا ہے۔ایک لمبے عرصہ کے بعد یعنی اگر یہ عرصہ غدر کے زمانہ سے شمار کیا جائے جب تک کہ اسلامی بادشاہت کا کچھ کچھ نشان ابھی ہندوستان میں باقی تھا تو ہے پورے تو ے سال کے بعد آج یہ ملک غیر ملکی حکومت کے اقتدار سے آزاد ہوا ہے۔اور اگر صرف پنجاب کے علاقہ کو لیا جائے تو پورے سو سال کے بعد آج یہ علاقہ غیر ملکی اقتدار سے آزاد ہوا ہے۔حکومتیں ظالم ہوں یا منصف لیکن آج ایک ہندوستانی یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اس ملک میں اُسی کی حکومت ہے۔خواہ اُس کے نائب حکام عدل اور انصاف سے کام نہ بھی لیتے ہوں۔جہاں تک قانون کا سوال ہے اور جہاں تک آئین کا سوال ہے آج ہر ایک ہندوستانی اپنے ملک میں اُس سے زیادہ حقوق کا مستحق ہے جتنا کہ ایک غیر ملکی باشندہ۔لیکن آج سے پہلے ایک غیر ملکی باشنده زیاده حقوق کا مستحق سمجھا جاتا تھا اور ایک ہندوستان کا باشندہ باوجود اپنے ہی ملک میں