خطبات محمود (جلد 28) — Page 18
سال 1947ء 18 خطبات محمود کا شوق رکھتے ہوں ایسے لوگوں کے لئے یہ بہترین موقع ہے۔ ہم دیہاتی مبلغین میں مڈل پاس اور اردو پرائمری پاس آدمیوں کو بھی لے لیتے ہیں ۔ کچھ عرصہ اُن کو دینی مسائل سکھائے جاتے ہیں اور کچھ طب پڑھائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد انہیں پنجاب کے مختلف دیہات میں کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ اور جہاں تک ہم نے تجربہ کیا ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا یہ تجر بہ بہت کامیاب رہا ہے۔ کئی جماعتیں ایسی تھیں جو کہ چندوں میں سُست تھیں اب اُن میں بیداری پیدا ہو گئی۔ پہلے سال صرف پندرہ آدمی اس کلاس میں شامل ہوئے تھے اور پچھلے سال پچاس شامل ہوئے اس سال چاہئیے کہ ستر طلباء تو اس جماعت میں داخل ہوں اور پھر 1948ء میں ایک سو میں دیہاتی مبلغ تیار کئے جائیں ۔ اگر اس طرح ترقی کی طرف قدم اٹھایا جائے تبھی کامیابی ہو سکتی ہے۔ مبلغ بنانا جماعت کا کام ہے اور تبلیغ کا کام جماعت نے ہی کرنا ہے۔ آسمان سے فرشتے آ کر نہیں کریں گے اور نہ ہی دوسری قوموں کے آدمی آ کر کریں گے ۔ کیا ہم وفات مسیح اور صداقت مسیح موعود کی تبلیغ کے لئے کچھ ہندوؤں ، سکھوں ، اور عیسائیوں کو مبلغ بنا سکتے ہیں ؟ اگر ہم ان قوموں میں سے مبلغ رکھنا منظور بھی کر لیں تو وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان ہو گا وہ کبھی بھی اس کام کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ اور اگر با وجود ایک مذہب پر ایمان رکھنے کے کوئی شخص دوسرے مذہب کی تبلیغ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مذہب کے ساتھ غداری کرتا ہے۔ اور جو شخص اپنے مذہب سے غداری کرتا ہے وہ تمہارے ساتھ کیونکر وفاداری کر سکتا ہے ۔ اصل چیز تو ایمان ہے ۔ اگر کوئی شخص پیسے لے کر اپنا ایمان بیچتا ہے تو ایسے شخص سے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ سال میں بیسیوں چٹھیاں میرے پاس آتی ہیں کہ ہم اپنے مذہب سے بیزار ہیں ۔ ہمیں بتایا جائے کہ اگر ہم آپ کے مذہب میں داخل ہوں تو ہمیں کیا دیا جائیگا؟ میں ایسے لوگوں کو یہی جواب دیا کرتا ہوں کہ پہلے آپ دیانتدار بنیں اور پھر قربانی کی نیت سے مذہب تبدیل کریں ۔ تو خدا تعالیٰ آپ کو جزا دے گا۔ کوئی بندہ کسی کو کیا جزا دے سکتا ہے ۔ دین کا بدلہ خدا تعالیٰ ہی دے سکتا ہے ۔ اگر تو لالچ کی وجہ سے آپ مذہب چھورنا چاہتے ہیں تو ایسا نہ کریں اور اپنے مذہب اور اپنے مذہب سے وفاداری کریں ۔ اور اگر حقیقت میں اسلام کو آپ سچا سمجھتے ہیں تو سچائی کے لئے قربانی کریں ۔ چونکہ ہم کسی ایسے شخص کو جو لالچ کی وجہ سے مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے شامل نہیں کرتے اس لئے اللہ تعالیٰ کسی