خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 260

خطبات محمود 260 سال 1947ء لگایا جانا ضروری ہے اُن کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس دفعہ اعتکاف نہ بیٹھیں۔اُن کا اعتکاف نہ بیٹھنا زیادہ ثواب کا موجب ہوگا بہ نسبت اعتکاف بیٹھنے کے۔ایک دفعہ جہاد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج روزہ داروں سے بے روز بڑھ گئے ہیں۔1 کیونکہ بے روز تو میدانِ جہاد میں پہنچتے ہی کام کرنے لگ گئے اور روزہ دار لیٹ کر ہانپنے لگے۔آجکل پہر۔کے دن اور اِدھر اُدھر گھومنے کے ایام ہیں۔اِس لئے اِن دنوں نو جوانوں کا اور نوجوانوں کی طرح کام کر سکنے والوں کا اعتکاف نہ بیٹھنا بہ نسبت اعتکاف بیٹھنے کے زیادہ ثواب کا موجب ہے۔پس ایسے لوگوں کو جن کی سلسلہ کو ہنگامی کاموں کے لئے ضرورت ہے اعتکاف نہ بیٹھنا چاہیئے۔اگر وہ اعتکاف بیٹھیں گے تو یہ اُن کی نیکی نہ ہوگی بلکہ اُن کے نفس کا دھوکا ہوگا۔لیکن جو لوگ اس عمر کے نہیں اور نوجوانوں کی طرح پہرہ وغیرہ کا کام نہیں کر سکتے اُن سے میں کہتا ہوں کچھ کہ وہ جتنے زیادہ اعتکاف میں بیٹھ سکیں اُتنے ہی زیادہ بیٹھ جائیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی ہی دعائیں کریں، اتنی دعائیں کریں کہ جیسے محاورہ میں کہتے ہیں کہ ان کے ناک رگڑے جائیں اور ان کے ماتھے گھس جائیں۔تمہیں چاہئے کہ آج یونس نبی کی قوم کی طرح تمہارے بچے اور تمہاری عورتیں ،تمہارے نوجوان اور تمہارے بوڑھے سب کے سب خدا تعالیٰ کے سامنے روئیں تا کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو تباہی سے بچالے اور اپنے فضل سے ہماری دستگیری کرے۔دنیا می میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی سفارش کرنے والا موجود ہے۔کسی کی تجارتیں اُسکی سفارش کر رہی ہیں۔کسی کے بنک اس کی سفارش کر رہے ہیں۔کسی کے اعداد و شمار اُسکی سفارش کر رہے ہیں۔کسی کے سپاہی اُس کی سفارش کر رہے ہیں۔لیکن اگر کوئی جماعت دنیا میں زندہ رہنے کی مستحق ہے اور اگر کوئی جماعت دنیا میں پُر امن کام کر رہی ہے تو وہ تمہاری جماعت ہے۔مگر تمہاری پشت پر کوئی نہیں جو تمہاری سفارش کرنے والا ہو سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے۔اس لئے اگر ہم اپنی دعاؤں اور گریہ وزاری سے خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لیں تو یقینا دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ہمارے حقوق کو تلف نہیں کر سکتی۔لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کے فضل کو نہ کھینچ سکیں تو ہم سے زیادہ بے یار و مددگار دنیا میں اور کوئی نہیں ہوگا۔محض عقلی دلائل پر انحصار رکھنا نا دانی اور حماقت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ عقلی طور پر ہماری بات معقول ہے اس لئے ہمیں امید رکھنی چاہیئے کہ ہماری بات مانی جائے گی۔لیکن اس دھینگا مشتی