خطبات محمود (جلد 28) — Page 243
خطبات محمود 243 سال 1947ء ان کے پاس روپیہ آ سکتا ہے۔اور وہ بھی دسمبر سے پہلے نہیں آسکتا۔اگر اعلان کی آخری تاریخ ہے سے ( جو 30 جون تھی ) مزید چھ ماہ کی میعاد شمار کی جائے تو یہ میعاد دسمبر میں ختم ہوتی ہے۔لیکن دسمبر تک سوائے چھوٹی چھوٹی فصلوں کے کوئی بڑی فصل نہیں ہوتی۔کماد ہمارے ملک میں بڑی فصل ہے اسی طرح تو ریا بھی بڑی فصل ہے اور کپاس اور سرسوں کی فصلیں بھی بڑی سمجھی جاتی ہیں۔مگر ان سب کی آمدن مارچ یا اپریل تک ہوتی ہے دسمبر تک نہیں ہوتی۔پس جو لوگ اپنے وعدوں کی رقوم اس وقت ادا نہیں کریں گے وہ مجبور ہوں گے کہ اپنے وعدوں کو ٹلا دیں۔اور پھر وہ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ ہمیں مارچ یا اپریل تک مہلت دی جائے۔پس جماعت کے دوستوں کو اور بالخصوص زمینداروں کو جلد از جلد اپنے وعدوں کی رقوم کی ادائیگی کی طرف توجہ کرنی چاہیئے ورنہ ایک نادر موقع ان کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔اسی طرح دوسرے دوستوں کو بھی جلد ادائیگی کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔انہیں یہ انتظار نہیں کرنا چاہیئے کہ وہ چھ مہینے گزرنے کے بعد ادا کر دیں گے۔کیونکہ مہینے کے بعد جو لوگ ادا کریں گے انہیں سستی اور غفلت کا دھبہ لگ جائے گا۔ہر شخص جو سستی کرتا ہے ہے اور آج کا کام کل پر چھوڑتا ہے وہ اسی لئے ایسا کرتا ہے کہ اُسے اُس کام کے ساتھ محبت نہیں ہوتی۔ور نہ جو شخص اپنے کام کے ساتھ محبت رکھتا ہے وہ جلد از جلد سے سرانجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم اپنا قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن سے وعدہ کیا کہ آپ کبھی اُن کے پاس کپورتھلہ تشریف لائیں گے۔اُن دنوں کپور تھلہ تک ریل نہ ہوتی تھی اس لئے پھگواڑہ سے اتر کر یگوں پر کپورتھلہ جانا پڑتا تھا۔آپ کسی کام کے لئے لدھیانہ تشریف لے گئے تو آپ کو خیال آیا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرنا چاہیئے۔چنانچہ آپ بغیر اطلاع دیئے کپورتھلہ کی طرف روانہ ہو گئے۔منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم ایک دوکان پر بیٹھے تھے اور باتیں کر رہے تھے کہ سلسلہ کا ایک شدید ترین دشمن جو ہمیشہ اُن کے ساتھ سلسلہ کے خلاف بنسی اور تمسخر کیا کرتا تھا اُن کے پاس پہنچا اور کہا تمہارے مرزا صاحب اڈے پر آئے ہوئے ہیں۔منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم کہتے تھے جب میں نے اُسکی یہ بات سنی تو مجھے اُس کی پرانی ہنسی اور تمسخر کی وجہ سے یہ خیال گزرا کہ یہ میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے۔ور نہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام تشریف لاتے تو مجھے پہلے اپنی تشریف آوری کی