خطبات محمود (جلد 28) — Page 238
سال 1947ء 238 خطبات محمود ہدایت کا موجب بن سکتا ہے ۔ اس خواب کے اندر ہمارے لئے بھی ایک سبق ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ قرآن پڑھو اور قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلاؤ ۔ پس میں اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ قرآن پڑھو اور پھیلاؤ تا کہ خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں سے بغض اور کینے کو نکال دے۔ اور پھر دنیا میں ایسی نیک اور صالح جماعت پیدا ہو جائے جیسے انبیاء کی جماعتیں ہوتی ہیں ۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی محبت دی ہے ۔ مگر ہماری محبت لوگوں کے کام نہیں آسکتی ۔ کیونکہ بہت بڑی آگ پر اگر ایک گھونٹ پانی کا ڈال دیا جائے تو اُس پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔ ہماری تعداد دنیا کے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسی پانی کے ایک گھونٹ کو بہت بڑی آگ سے نسبت ہوتی ہے۔ یہ روحانی چشمہ جب تک ساری دنیا میں پھیل نہ جائے اور اسلام کی تعلیم پر صحیح رنگ میں عمل کرنے والے بغض اور کینہ رکھنے والوں سے بڑھ نہ جائیں اُس وقت تک ہم امن قائم نہیں کر سکتے ۔ پس ہماری جماعت کو نہایت زور کے ساتھ تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو الہامات ان واقعات کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئے تھے اور اب جو نشانات خدا تعالیٰ ہمیں دکھا رہا ہے اُنہیں کثرت کے ساتھ اور بار بار لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیئے یہاں تک کہ لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ، بنی نوع انسان کی شفقت اور احمدیت کے متعلق رغبت پیدا ہو، اور لوگ اس طرح ہدایت پا جائیں کہ اُنہیں دیکھ کر یوں معلوم ہو کہ یہ انسان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو زمین پر چل پھر رہے ہیں ۔ اور جب وہ خدا تعالیٰ کے فرشتے بن جائیں گے تو کبھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی نہیں کریں گے۔ بلکہ دنیا میں کامل امن وامان رونما ہو جائے گا۔ جو لوگ ایک دوسرے پر آگ پھینکتے ہیں وہ دوزخی ہیں ۔ کیونکہ آگ کو دوزخ کے ساتھ ہی نسبت ہے۔ مگر جنتی جب دوسرے پر پھینکے گا۔ پھل اور پھول ہی پھینکے گا کیونکہ جنت کے اندر پھل اور پھول ہی ہوتے ہیں۔ پس جب دنیا میں جنتیوں کی کثرت ہوگی تو اس کے لازمی معنی یہ ہوں گے کہ فسادات معدوم ہو جائیں گے۔ پس اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور فتنوں اور فسادات کو دور کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بغض اور کینہ رکھنے والے لوگوں کی ذہنیتوں کو بدل دیں حتی کہ وہ جنتی ہو جائیں۔ ورنہ اگر ہم کامیاب نہ ہوئے تو خطرہ ہے کہ یہ دنیا لڑتے لڑاتے اس ۔