خطبات محمود (جلد 28) — Page 199
خطبات محمود 199 سال 1947ء کے ہندو میرے بندے نہ تھے ؟ تم نے اپنی قوم کی جنبہ داری کی وجہ سے مدد کی۔میری خاطر تم نے مظلومین کی مدد نہیں کی۔اگر تم میری خاطر یہ کام کرتے تو ہندوؤں کو نظر انداز نہ کرتے۔کیونکہ میرا حکم تو تمام بندوں سے ہمدردی کا ہے۔پس میں صرف یہی نہیں کہتا کہ تم امرتسر کے مسلمانوں کی مدد کرو بلکہ اگر راولپنڈی اور ملتان کے ہندوؤں کی امداد کا کوئی سامان موجود ہو تو اس سے بھی دریغ نہ کرو۔جب میں نے نواکھالی کے مظلومین کے لئے پانچ ہزار روپیہ بھجوایا تو جماعت میں سے بھی اور باہر سے بھی مجھ پر اعتراضات کئے گئے۔لیکن میں نے ایک کان سے سُنے اور دوسرے سے نکال دیئے۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ کل کو یہی چیز ان اعتراض کرنے والوں کو اچھی نظر آئے گی۔اور میرا خیال غلط نہ تھا۔آخر بدی کو کسی طرح روکنا ہی پڑے گا۔اگر صرف بدلے سے روکنے کی کوشش کی جائے تو اس طرح تو بدی رک نہیں سکتی۔آخر کسی ایک فریق کو یہ کہنا ہی پڑے گا کہ میں اپنے دکھ کا بدلہ نہیں لیتا فساد کو ختم کیا جائے۔جب تک یہ طریق اختیار نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا۔ہم اس بات کو نہیں چھپاتے کہ ہم نے بہار کے مسلمانوں کی امداد کی ہے اور اب امرتسر کے مسلمانوں کی امداد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اس پر بھی اعتراض کریں بلکہ بعض انگریز حکام اس پر اعتراض کرتے ہیں لیکن اُن کا اعتراض کرنا نادانی سے ہے۔مظلوم کی مدد کرنا ہر شریف انسان کا فرض ہے۔لیکن ہم میں اور دوسرے لوگوں میں ایک نمایاں فرق ہے۔اور وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ بھی امداد کرنے میں رعایت سے کام لیتی ہے اور ہندو بھی اپنی قوم کی رعایتیں کرتے ہیں اور مسلمان بھی اپنی قوم کی رعایتیں کرتے ہیں۔لیکن ہمارا یہ جرم ہے کہ ہم رعایت سے کام نہیں لیتے اور ہم ہر مظلوم کی مدد کرتے ہیں۔امرتسر میں جس طرح دو مہینے سے برابر کر فیو چلا آتا ہے اُس کو دیکھ کر انسان یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ اُن مزدوروں کی کیا حالت ہوگی جو کہ روزانہ مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔گورنمنٹ کا اُن کو دو گھنٹے کے لئے اجازت دے دینا کہ اپنے لئے کھانے پینے کی چیزیں خرید لو بڑی مہربانی ہے سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ نہیں سوچا جاتا کہ وہ خریدیں گے کہاں سے اور خریدنے کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ امرتسر میں قریباً پچاس ہزار مزدور پیشہ لوگ ہیں اور وہاں قریباً دو ماہ سے کرفیو لگا ہوا ہے۔ان حالات میں اُن کے لئے محنت مزدوری کرنا بالکل ناممکن -