خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 192

سال 1947ء 192 خطبات محمود ایک لمبے عرصے تک قادیان کے اردگرد محاصرہ رکھا لیکن اس کے باوجود وہ قادیان کو فتح نہ کر سکے ۔ آخر انہوں نے ایک ہندو پر وہت کو جسے بد قسمتی سے ہمارے پڑدادا نے قلعہ کی کنجیاں سپرد کی ہوئی تھیں رشوت دے کر قلعہ کھلوا لیا اور اس طرح اچانک سکھ اندر آگئے ۔ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنا ہے ۔ آپ فرماتے تھے کہ اُس روز ہمارے خاندان کے ستر نوجوان بستروں کے اندر ہی قتل کر دیئے گئے ۔ پس اندر کا ایک غدار باہر کے دس ہزار دشمن سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس لئے ہم قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں سے کہتے ہوتا ہے ۔ اس کے ہیں کہ اگر کوئی جماعت باہر سے حملہ آور ہو تو دیانتداری کا تقاضا یہی ہے کہ تم غداری نہ کرو۔ اگر غداری کرو گے تو صرف ہماری جماعت کا ہی نقصان نہیں ہوگا بلکہ تمہارا بھی ساتھ ہی ہوگا ۔ اور یہ جو کسی احمدی نے کہا ہے کہ لڑائی کی صورت میں ہم ہندوؤں کو آگے رکھیں گے یہ اُس کا ذاتی خیال ہے۔ ہندوؤں کے لڑائی میں شریک ہونے کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا یہ کہ ہندولڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور یا یہ کہ وہ لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اگر وہ لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تو اُن کو آگے کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اُن کو قتل کرانے کے لئے دوسروں کے سامنے پیش کریں۔ اور یہ ظلم کی بات ہے اور احمدیوں سے اس قسم کے ظالمانہ سلوک کی اُمید نہیں کی جاسکتی ۔ پس میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ جس شخص نے ایسا کہا یہ اُس کا ذاتی خیال ہے۔ جماعت اُس کی اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتی۔ باقی رہا اپنے شہر کی حفاظت کرنا۔ سو اس کے لئے کسی مسلمان یا ہند و یا سکھ کی تخصیص بے معنی بات ہے ۔ اپنے شہر کی حفاظت کرنا ہر شہری کا فرض ہے ۔ خواہ وہ کسی مذہب کا پیرو کیوں نہ ہو۔ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص قادیان کی حفاظت میں حصہ نہیں لینا چاہتا تو ہماری طرف سے اُسے کھلی اجازت ہوگی کہ وہ بے شک حصہ نہ لے ۔ ہم صرف اس بات کی اُس سے خواہش رکھیں گے کہ وہ بیرونی دشمن کی کسی رنگ میں مدد نہ کرے اور اگر فرض کیا جائے کہ اُن میں لڑنے کی طاقت تو ہے لیکن وہ لڑنا نہیں چاہتے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو گو ہم اُن کے متعلق یہ ضرور کہیں گے کہ انہوں نے شہری حقوق ادا نہیں کئے اور وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے سے قاصر رہے وہ مجرم تو ضرور ہیں لیکن جماعت احمد یہ اپنے اعلیٰ اخلاق کے ماتحت ایسے لوگوں کو بھی مجبور نہ کرے گی ۔ غرض اگر کوئی شخص لڑنے کی طاقت ہی نہیں