خطبات محمود (جلد 28) — Page 190
سال 1947ء 190 خطبات محمود رہے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے صلح اور امن کو قائم رکھا جائے اور ہم اردگرد کے علاقہ میں بھی یہی کوشش کر رہے ہیں اور دور و نزدیک کے سب لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ کوئی فریق ابتداء نہ کرے۔ لیکن اس امر کو ہندو سکھ سب کو یا د رکھنا چاہیئے کہ اگر فساد ہوا تو صرف ہمارے لئے نہیں ہوگا بلکہ سب کے لئے ہوگا اور سب کو مل کر امن قائم رکھنے کی کوشش کرنا چاہیئے ۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود ہم وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ فساد نہیں ہوگا اور ہماری کوششیں ضرور کامیاب ہونگی ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی جو شیلا فریق اشتعال میں آکر اخلاق اور روحانیت کا ظلم و استبداد کے استھان 3 پر چڑھاوا چڑھا دے۔ ایسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ قادیان فساد کی لپیٹ میں آ جائے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ایسا وقت نہ آئے ۔ لیکن اگر خدا نخواستہ فساد ہو جائے تو میں قادیان کے ہر احمدی سے کہوں گا کہ بہادری اور جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دو اور یہ ثابت کر دو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کی قربانی سب سے آسان قربانی ہے۔ ہم کسی سے لڑنے کی خواہش نہیں رکھتے اور نہ کبھی اس قسم کا خیال ہمارے دلوں میں آنا چاہیئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوّ - 4 تم دشمن سے لڑائی کی خواہش ہی نہ کرو۔ اپنے خیالات امن اور صلح والے رکھو ۔ کیونکہ جس شخص کے دل میں لڑائی کے خیالات موجزن ہوں گے وہ ذرا سی بات سے بھی بہت جلد مشتعل ہو جائے گا۔ اور جس شخص کے دل میں صلح و آشتی کے خیالات ہونگے وہ جلدی مشتعل نہیں ہوگا ۔ یہ قدرت کا ایک قانون ہے کہ انسان اپنی حالت کو یکدم نہیں بدل سکتا ۔ فرض کرو کوئی شخص قہقہہ مار کر ہنس رہا ہو اور اُسے یہ خبر دی جائے کہ تمہارا بیٹا مر گیا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اُسی وقت یکدم رونا شروع کر دے بلکہ اُسکی ہنسی تھوڑی دیر میں رکے گی پھر وہ کچھ دیر کے بعد افسردہ ہو گا اور پھر آنسو بہانا شروع کر دے گا ۔ اسی طرح جس شخص کے دل میں صلح و آشتی کے خیالات ہوں وہ یکدم مشتعل نہیں ہو سکتا ۔ جب ریل اپنا کانٹا بدلتی ہے تو وہ بھی آہستہ ہو جاتی ہے اور سست رفتار ہو کر اُس جگہ سے گزرتی ہے۔ اگر وہ تیزی سے کانٹا بدلے تو اُس کے الٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے لئے یہ قانون بنایا ہے کہ وہ اپنی حالت کو آہستہ آہستہ بدلتی ہے۔ اگر فوراً حالت بدل جاتی تو ہسٹیریا یا جنون ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ پس جو دماغ پہلے سے