خطبات محمود (جلد 28) — Page 189
سال 1947ء 189 خطبات محمود قادیان کی 85 فیصدی آبادی احمدی ہے۔ یعنی انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ہر حکم میں میری اطاعت کریں گے۔ ان حالات میں قادیان کے امن کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اور میں ایک انسان ہوں غیب کا علم نہیں رکھتا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ جماعت کا کوئی فرد کسی وقت اشتعال میں آکر کوئی غلطی کر بیٹھے۔ اور اگر کوئی شخص ایسا کرے تو یہ اُس کا ذاتی فعل ہو گا جماعت اس کے اس فعل سے بیزار ہوگی۔ ہماری جماعت کی انتہائی کوشش یہی ہوگی کہ قادیان میں مکمل طور پر امن رہے۔ لیکن اگر کوئی شخص میری ہدایات کے باوجود غلطی کرتا ہے تو یہ اُسکی جزوی اور انفرادی غلطی ہو گی ۔ جماعت اُس سے بری الذمہ ہوگی۔ ہاں چونکہ میں امن کی تعلیم دیتا ہوں یہ نہیں ہو سکتا کہ جماعت کی اکثریت فساد میں مبتلا ہو جائے لیکن اس کے ساتھ ہی جو باقی پندرہ فیصدی لوگ ہیں اُن کا بھی فرض ہے کہ وہ ارد گرد کے لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ فساد نہ کریں اور اگر ان تمام باتوں کے باوجود خدا نخواستہ باہر کے لوگ کوئی فساد کھڑا کر دیں تو اُس فساد کی ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ دوسروں پر ہوگی ۔ جو شخص کسی کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے وہ اس کا مارتا ہے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کے منہ پر تھپڑ مارا جائے۔ مگر ظالم کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف ظلم بھی کرتا ہے اور ساتھ ہی وہ یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ میرے منہ پر تھپڑ نہ مارا جائے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا تو کرتے ہیں کہ وہ ہمیں فساد سے محفوظ رکھے۔ لیکن اگر خدانخواستہ فساد ہو گیا۔ تو شرعاً اور اخلاقاً جماعت احمدیہ کا حق ہو گا کہ ظالم کے منہ پر اسی طرح تھپڑ مارے جیسا کہ اُس نے مارا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض مواقع پر ہم نے امن کو قائم رکھنے کے لئے بہت زیادہ نرمی اختیار کی ہے۔ احرار کی شورش کے ایام میں ہی میں نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اُس کے باپ یا بھائی کو مارا جا رہا ہے تو بھی وہ چپ کر کے گزر جائے لیکن اسلامی قانون یہ تقاضا نہیں کرتا کہ ہر موقع پر تم ایک ہی طریق اختیار کرو اور نہ ہی اسلامی تمدن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر موقع پر خاموشی اختیار کی جائے ۔ بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ مناسب حال جو موقع ہو ویسا کرو ۔ پس میرا فرض ہے کہ میں قادیان میں امن قائم رکھوں ۔ لیکن اگر دشمن کی طرف سے حملہ ہو اور جماعت اس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اُس کا ذمہ دار دشمن ہوگا نہ جماعت احمد یہ ۔ اور اس فساد کی ذمہ داری اُس پر ہوگی نہ کہ جماعت احمد یہ پر ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ الْبَادِيُّ أَظْلَمُ - 2- اصل ظالم وہ ہوتا ہے جو فساد کی ابتداء کرتا ہے ۔ پس گو ہم کوشش کر