خطبات محمود (جلد 28) — Page 181
خطبات محمود 181 سال 1947ء تحریک بنیاد ہو گی آئندہ تعمیر ہونے والی عظیم الشان اسلامی عمارات کی۔جس طرح میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی جو در حقیقت بنیاد تھی آج کی تحریک کے لئے مگر اُس وقت لوگ اس می تحریک کی حقیقت کو نہیں سمجھے تھے۔کچھ لوگوں نے تو اپنی جائیدادیں وقف کر دی تھیں مگر باقی لوگوں نے خاموشی اختیار کر لی۔اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی جائیداد میں وقف کی تھیں وہ بھی بار بار مجھے لکھتے تھے کہ آپ نے وقف کی تحریک تو کی ہے اور ہم اس میں شامل بھی ہو گئے ہیں لیکن و آپ ہم سے مانگتے کچھ نہیں۔انہیں میں کہتا تھا کہ تم کچھ عرصہ انتظار کرو۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ وقت بھی آجائیگا جب تم سے جائیدادوں کا مطالبہ کیا جائیگا۔چنانچہ دیکھ لو اس تحریک سے خدا تعالیٰ نے کتنا عظیم الشان کام لیا ہے۔اگر عام چندہ کے ذریعہ اس وقت جماعت میں حفاظت مرکز کے لئے تحریک کی جاتی تو میں سمجھتا ہوں کہ لاکھ دولاکھ روپیہ کا اکٹھا ہونا بھی بہت مشکل ہوتا مگر چونکہ آج سے تین سال پہلے وقف جائیداد کی تحریک کے ذریعہ ایک بنیاد قائم ہو چکی تھی اس لئے وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں اُس وقت حصہ لیا تھا وہ اس وقت مینار کے طور پر ساری جماعت کے سامنے آگئے اور انہوں نے اپنے عملی نمونہ سے جماعت کو بتایا کہ جو کام ہم کر سکتے ہیں وہ تم کیوں نہیں کر سکتے۔چنانچہ جب ان کی قربانی پیش کی گئی تو ہزاروں ہزار اور لوگ ایسے نکل آئے جنہوں نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جائیداد میں وقف کر دیں۔پس جس طرح وہ تحریک جدید بنیاد تھی بعض اور عظیم الشان کاموں کے لئے۔اُسی طرح حفاظت مرکز کے متعلق جو تحریک چندہ کے لئے کی گئی ہے یہ بھی آئندہ بعض عظیم الشان کاموں کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔اور جس وقت یہ تحریک اپنی تکمیل کو پہنچے گی اُس وقت مالی لحاظ سے جماعت کی قربانیاں اپنے کمال کو پہنچ جائیں گی۔در حقیقت جانی قربانی کا مطالبہ وقف زندگی کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور مالی قربانی کا مطالبہ چندوں کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔اور اب جائیدادوں اور آمد کے وقف کے ذریعہ تمام جماعت کو مالی قربانی کے ایک بہت ہی بلند مقام پر کھڑا کیا جا رہا ہے۔پھر شاید وہ وقت بھی آجائے ی کہ سلسلہ ہر شخص سے اسکی جان کا بھی مطالبہ کرے۔اور جماعت میں یہ تحریک کی جائے کہ ہر شخص نے جس طرح اپنی جائیداد خدا تعالیٰ کے لئے وقف کی ہوئی ہے اُسی طرح وہ اپنی زندگی بھی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دے تا کہ ضرورت کے وقت اس سے کام لیا جا سکے۔مال کی قربانی کی ابتدا