خطبات محمود (جلد 28) — Page 168
سال 1947ء 168 خطبات محمود دوسرے یہ چیزوں میں حاصل ہوتی ہے۔ اگر زیادہ کمانے والے لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوں تو اس کے دو بڑے نتائج پیدا ہونگے ۔ ایک یہ کہ کمزور لوگ دین کی خدمت سے کوتاہی اور سستی اختیار کر لیں گے ۔ اور یہ کہ اُن کا اپنا ایمان ضائع ہو ضائع ہو جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے چندوں کو اُن کے منہ پر مارے گا۔ اور فرمائے گا کہ ہم نے صرف چندے دینے کے متعلق ہی حکم نہیں دیا تھا بلکہ ہم نے تو کہا تھا وَ مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ 1 کہ ہم نے جو کچھ تم کو دیا ۔ کو دیا ہے اُس سے تم خرچ کرو ۔ ہم نے صرف روپے کے متعلق تو نہیں کہا تھا ۔ کیا ہم نے تم کو وقت نہیں دیا تھا ؟ کیا ہم نے تمہیں ہاتھ پاؤں نہیں دیئے تھے؟ کیا ہم نے تمہیں کان ناک اور آنکھیں نہیں دی تھیں؟ کیا ہم نے تمہیں عقل اور فراست نہیں دی تھی؟ کیا ہم نے تمہیں علم نہیں دیا تھا ؟ تمہارا فرض تھا کہ ان سب سے ہمارا حصہ ادا کرتے ۔ جو شخص صرف چندہ دے کے چندہ دے کر مطمئن ہو جاتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص نے دوسرے آدمی سے دس روپے قرض لئے ہوں اور وہ ان میں سے ایک روپیہ ادا کر کے یہ سمجھ لے کہ میں نے تمام قرضہ ادا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ ان میں سے صرف ایک نعمت کا حق ادا کر کے ہم عہدہ برآنہیں ہو سکتے بلکہ ویسے ہی مجرم ہیں جیسے دس روپیہ میں سے ایک روپیہ ادا کر کے باقی 9 روپے ادا نہ کرنے والا مجرم ہے۔ پس ہر ایک نعمت جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ ادا کرنا ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص خدمت دین سے جی چراتا ہے تو وہ لاکھ نہیں کروڑ روپیہ ہی چندہ کیوں نہ دے ہم اس کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ ایمان کی حقیقی لذت سے محروم ہے۔ اگر روپیہ ہی اصل چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ سب نبیوں کو فر ما تا کہ تم تبلیغ کرنا چھوڑ دو صرف چندہ دے دیا کرو۔ جو شخص صرف چندے کو ہی کافی سمجھتا ہے گویا دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور مامورین اور خلفاء تو ادنی کام کرتے ہیں اصل کام وہی کر رہا ہے۔ اگر چندے دینا ہی سب سے بڑا کام ہوتا تو اللہ تعالیٰ انبیاء اور خلفاء کو بھی صرف چندے دینے کا ہی علم دیتا ۔ اور ا حکم ۔ حکم دیتا ۔ اور اگر صرف چندے دینا ہی ضروری ہوتا تو جماء ا تو جماعت احمد یہ اس طریق کار کو اختیار کرتی کہ ہندوؤں اور عیسائیوں کو دین کے کاموں پر لگا دیا جاتا اور خود احمدی زیادہ روپیہ کمانے والے کاموں میں لگ جاتے ۔ پریزیڈنٹ کا کام ایک احمدی کی بجائے ملا وامل