خطبات محمود (جلد 28) — Page 8
خطبات محمود 8 سال 1947ء اگست کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں گے ہم ستمبر میں جائیں گے۔ستمبر کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں گے ہم اکتوبر میں جائیں گے اور جب اکتوبر کا مہینہ آئے گا تو کہہ دیں گے کہ حضرت ہم نے جس مہینہ میں جانا تھا وہ تو غلطی سے گزر چکا ہے اب اس مہینہ میں تو ہم جانہیں سکتے۔بھلا یہ بھی کوئی انصاف اور تقویٰ کی بات ہے کہ جو کام تم نے کرنا ہے تم اُسے کیوں نہیں کرتے۔جو مصیبتیں تمہارے لئے ہیں وہ بہر حال تمہیں برداشت کرنی ہونگی۔تمہارا یہ روز کا وعدے کرنا تو دین کے ساتھ ایک تمسخر ہے۔پس اب مہینے وغیرہ کی شرط کوئی نہیں ہوگی۔بلکہ یہ ہمارا کام ہوگا کہ دیکھیں کہ ہم کس ماہ میں کس سے کام لینا چاہتے ہیں۔جس ماہ میں ہم چاہیں گے کسی کو بھیج دیں گے۔ملکانہ کے علاقہ میں تبلیغ کرنے کے لئے ہم دوستوں کو اطلاع دے دیتے تھے کہ آپ فلاں مہینہ میں ملکا نہ پہنچ جائیں اور دوست وقت مقررہ پر اپنی جگہ پر پہنچ جاتے تھے۔خدا کے فضل سے جماعت نے ارتداد ملکانہ کے زمانہ میں ایسا شاندار کام کیا کہ آج اس بات کو بائیس سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک جماعت کے اس کام کی غیروں میں دھوم پائی جاتی ہے۔اور یوپی اور پنجاب کے ایسے آدمی جو اس تبلیغ کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں اکثر یہ کہتے رہتے ہیں کہ ملکانہ میں جماعت احمدیہ نے کمال کر دیا تھا۔پس یہ بات ہمیشہ یا درکھو کہ قربانی ہی دلوں میں اثر کرتی ہے اور قربانی ہی دلوں کو صداقت کی طرف کھینچتی ہے۔میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سر دست محلہ وار فہرستیں تیار ہوں اور محلوں کے پریذیڈنٹ خود ہی آبادی کا اندازہ کر لیں کہ کتنی آبادی ہے۔اور ہر ایک محلہ کا پریذیڈنٹ اس بات کا اپنی فہرست میں ذکر کرے کہ ہمارے محلہ میں اتنی آبادی ہے۔اُس کے لحاظ سے ہم نے اتنے آدمی پیش کئے ہیں اور ان کے نام یہ ہیں۔جو لوگ انکار کریں اُن کے متعلق بھی ہمیں ای اطلاع دی جائے۔ہم بہر حال سو میں سے دو آدمی لیں گے۔محلہ کے پریذیڈنٹ خواہ تحریک کر کے یہ تعداد پوری کریں اور خواہ جبری طور پر یہ تعداد پوری کریں، جب یہ فہرستیں مکمل ہو کر میرے پاس آجائیں گی میں ان سے کام لینے کے لئے ایک آدمی مقرر کروں گا جو ان لوگوں سے میری ہدایات کے مطابق کام لے گا۔میں یہ چاہتا ہوں کہ علاقہ میں تبلیغ کی ایسے طور پر داغ بیل ڈالی جائے کہ ہماری یہ سکیم جلدی سے جلدی اچھے نتائج پیدا کر سکے۔اصل چیز تو یہ ہے کہ ایک