خطبات محمود (جلد 28) — Page 146
خطبات محمود 146 سال 1947ء محبوبوں اور عاشقوں کو قتل کیا جاتا تھا اور لوگوں کی تلوار میں ایسے لوگوں کی تلاش میں تھیں۔آپ کی تن فرماتے ہیں کہ میں زور سے چلا تا ہوں کہ جسے تم مارنا چاہتے ہو وہ میں ہوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عاشقوں کے نزدیک محبوب ترین چیز قربانی ہی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے نام رکھے ہیں اور آپ سے بہت سے وعدے ترقیات کے کئے ہیں۔مگر صوفیاء نے غور و خوض کے بعد آپ کا سب سے بڑا نام جو نکالا ہے وہ عبد ہے یعنی خدا تعالیٰ کا بندہ۔ان کے نزدیک محمد فاتح مکہ بڑا نہیں۔محمد عظیم الشان قاضی بڑا نہیں۔محمد بہترین جرنیل بڑا نہیں۔محمد اللہ تعالیٰ کا بندہ سب سے بڑا ہے۔کیونکہ اس میں عشق و محبت کا رنگ پایا جاتا ہے۔اور عشق و محبت کی وجہ سے قربانی کرنی پڑتی ہے۔اور جو شخص عشق و محبت کے رستہ میں قربانی کرنے سے دریغ کرتا ہے اُس سے زیادہ بے وقوف اور کوئی نہیں۔کہتے ہیں اُکھلی میں سرد یا تو موہلوں سے کیا ڈرنا کہ اُکھلی میں سر دے کر یہ کہنا کہ موہلے نہ مارو بے وقوفی کی بات ہے ہر جماعت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کی جاتی ہے وہ مار کھانے کے لئے ہی آتی ہے۔اور اسے ہر چیز اللہ تعالیٰ کے رستے میں قربان کرنی پڑتی ہے۔یہی چیز ہے جو ابتدائی لوگوں کی کو بعد والوں پر فضیلت بخشتی ہے۔کیونکہ پہلے لوگ ایسے وقت میں عشق کا دعوی کرتے ہیں جبکہ عشق کی قربانی سر کٹوانا ہوتی ہے اور دنیا اللہ تعالیٰ کے عاشقوں کے سر کاٹتی ہے۔اور بعد والے ایسے وقت میں آتے ہیں جبکہ دنیا عاشقوں کو سر پر بٹھاتی ہے۔دونوں ہی سچے عاشق ہوتے ہیں۔لیکن اپنی ابتدائی قربانیوں کی وجہ سے بعد والوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔حضرت عثمان ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی عاشق تھے۔اور بعد میں آنیوالے حضرت سید عبد القادر صاحب جیلائی ، اور حضرت جنید بغدادی بھی عاشق تھے۔لیکن جب تم حضرت عثمان بن مظعون کا ذکر کرتے ہو تو تمہارے قلوب میں ان کے لئے محبت اور پیار کا ایک طوفان اٹھتا ہے۔لیکن سید عبد القادر صاحب اور جنید صاحب بغدادی کے لئے وہ جوش محبت نہیں اٹھتا۔حالانکہ یہ سارے کے سارے ہی اللہ تعالیٰ کے عاشق تھے۔یہ فرق اس لئے ہے کہ حضرت عثمانؓ نے ایسے وقت میں عشق کا دعویٰ کیا جبکہ عاشقوں کے سر کاٹے جاتے تھے۔اور سید عبد القادر جیلانی اور جنید بغدادی نے ایسے وقت میں عشق کا دعویٰ کیا جبکہ عاشقوں کو سر پر بٹھایا جاتا تھا۔