خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 142

خطبات محمود 142 سال 1947ء دفتر پرائیوٹ سیکرٹری کو میری ہدایت کے ماتحت میری موجودگی میں فون پر سب کچھ سمجھا دیا تھا لیکن اس کے باوجودانہوں نے الفضل کو ایک ناقص رپورٹ بھجوادی۔اور الفضل والوں کو بھی یہ خیال نہ آیا کہ آیا اس خبر میں حکمت کیا ہے کہ اسے شائع کیا جائے۔چندے تو سارے لوگ دیتے ہیں اس کے شائع کرانے کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس میں ایک نکتہ تھا اور جماعت کے لئے ایک سبق تھا۔اس میں سبق تھا جی بچوں کے لئے۔اس میں سبق تھا بڑوں کے لئے۔اس میں سبق تھا مردوں کے لئے۔اس میں سبق تھا تو عورتوں کے لئے۔ایک چھوٹا بچہ اپنی پھوپھی سے کہتا ہے کہ آپ کے کانوں نے ایک فیصدی سنا ہوگا۔آپ بے شک ایک فیصدی دیں۔لیکن میرے کانوں نے چونکہ سو فیصدی سنا ہے۔چاہے یہ غلط ہے یا حیح میں سو فیصدی ہی دوں گا۔یہ جذبہ اطاعت ہے جو ہر مومن کے اندر پیدا ہونا چاہیئے۔اسی قسم کا ایک واقعہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ گلی میں آرہے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے کناروں پر کھڑے ہونے والوں کو کہا۔دوست بیٹھ جائیں۔پتہ نہیں کہ وہ لوگ بیٹھے یا نہ بیٹھے کیونکہ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستثناء سمجھتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے ہے۔حالانکہ وہ چی حکم سب کے لئے یکساں ہوتا ہے۔لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ جو گلی میں آرہے تھے آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنی تو آپ گلی میں ہی بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے چلنا شروع کیا۔کسی نے کہا آپ یہ کیا بچوں والی حرکت کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیٹھ جاؤ۔میں بیٹھ گیا ہوں۔اس گزرنے والے شخص نے کہا کہ آپ گا وہ حکم تو اُن لوگوں کے متعلق ہے جو مسجد میں ہیں نہ اُن کے متعلق جو کہ گلی میں چل رہے ہیں۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کیا پیارا جواب دیا کہ بے شک آپ نے مسجد والوں کو ہی کہا ہو گا لیکن میرے کانوں نے جب آپ کی آواز سنی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں آپ کا ایک حکم سنوں اور اس پر عمل نہ کروں۔1 حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بہت پرانے صحابی تھے اور وہ ایک لمبے عرصہ تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہے۔قرآن کریم کے حافظوں میں سے تھے اور ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے۔اس کے باوجود ہم اُن کی اس اطاعت اور فرمانبرداری کی روح کو دنیا کے سامنے بطور مثال کے پیش کرتے ہیں کہ ایمانداروں کی فرمانبرداری اسی طرح ہوتی ہے