خطبات محمود (جلد 28) — Page 137
خطبات محمود 137 سال 1947ء ہے اور اب گزارے کی صورت مشکل نظر آتی ہے۔خنساٹ نے کہا یہ بھی کو ئی غمگین ہونے کی بات ہے۔میرا بھائی زندہ ہے جب تک وہ زندہ ہے ہمیں کیا ڈر ہے۔پھر اپنے بھائی کو اطلاع دی کہ ہم ملنے کے لئے آ رہے ہیں اور خاوند کو ساتھ لے کر بھائی کی ملاقات کے لئے چل پڑیں۔بھائی بھی ایسا فراخ دل تھا کہ بجائے اس کے کہ اس کے دل میں اپنے بہنوئی کو ملامت کرنے کا خیال پیدا ہوتا اس نے اردگرد کے قبائل کے سرداروں کو دعوت نامے بھجوائے کہ میری بہن اور میرا بہنوئی آرہے ہیں ان کی آمد کی خوشی میں آپ لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور ان کے استقبال کے لئے بڑی شان و شوکت سے ایک دو منزل آگے گیا اور جب تک بہن اور بہنوئی اس کے پاس رہے دعوتیں ہوتی رہیں۔جب بہن واپس آنے لگی تو اس نے اردگرد کے قبائل کے سرداروں سے کہا کہ یہ میری بہن ہے اور میں اس کا بھائی ہوں اور یہ انصاف کے خلاف ہے کہ میری بہن غریب ہو جائے اور میں اسکی مدد نہ کروں۔آپ لوگوں سے میری درخواست ہے کہ آپ میری دولت بانٹ کر آدھی میری بہن کو دے دیں۔اُن دنوں روپے تو بہت کم ہوتے تھے اونٹنیاں اور بکریاں ہی دولت سمجھی جاتی تھیں اور ایک ایک امیر آدمی کے پاس سینکڑوں ہزاروں جانور ہوتے تھے اور اس کے علاوہ سامانِ حرب بھی دولت میں شمار کیا جاتا تھا۔اُن رؤساء نے اُن کے مال کا اندازہ لگایا اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔بہن آدھا حصہ لے کر بھائی سے رخصت ہوئی۔گھر پہنچ کر کچھ دیر تو اُس کا خاوند سنبھلا رہا لیکن پھر بد عادتیں کوٹ آئیں اور وہی پہلے لچھن اس نے اختیار کر لئے۔شراب اور جو ا پھر شروع ہو گیا۔وہ مال بھی تمام کا تمام ختم ہو گیا۔پھر ایک دن اسے پریشان بیٹھا دیکھ کر خنساء نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگا سارا مال ختم ہو گیا ہے۔اب کیسے گزر ہوگی؟ خنساء نے کہا گھبراتے کیوں ہو میرا بھائی زندہ ہے۔پھر بہن اپنے خاوند کو لے کر اپنے بھائی کے پاس پہنچی۔بھائی نے اس دفعہ پہلے کی نسبت بھی زیادہ شاندار استقبال کیا اور زیادہ شاندار دعوتیں کیں۔پھر آخر میں کچھ رؤسا سے کہا کہ میری آدھی دولت میری بہن کو دے دیں۔پھر آدھی دولت لے کر بہن اپنے بھائی سے رخصت ہوئی۔واپس آ کر کچھ دیر تو اس کے خاوند کی عادات میں اصلاح رہی۔اس کے بعد بد عادات پھر عود کر آئیں اور کچھ عرصے کے اندر اس نے وہ دولت بھی اڑا دی اور اب اس کے دل میں ندامت پیدا ہوئی کہ اب لینے نہیں