خطبات محمود (جلد 28) — Page 136
خطبات محمود 136 سال 1947ء فوج کی کمان بہر حال ضروری تھی اس لئے آپ کو ایک عرشہ پر بٹھایا گیا اور آپ عرشہ پر بیٹھے ہوئے فوج کی کمان کرتے۔غرض نازک مواقع پر افسر کو تکلیف اُٹھا کر بھی جماعت سے واسطہ قائم رکھنا پڑتا ہے۔اور یہ ایسا ہی زمانہ ہے۔اسی جنگ کے ایک واقعہ کی طرف میں آج جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔حضرت خنساء عرب کی ایک مشہور شاعرہ تھی۔وہ کفر کے زمانہ میں بھی بہت شہرت حاصل کر چکی تھیں اور آج تک ادبی دنیا میں بہت بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں ایمان لائیں۔حضرت عمر اُن کے اشعار کو بہت پسند کرتے تھے اور آپ اکثر حضرت خنساء کے شعر پڑھا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ کو اپنے ایک بھائی سے بہت محبت تھی۔وہ ایک جنگ میں شہید ہو گئے۔آپ جب بھی ان کو یاد کرتے تو آپ پر رقت کی حالت طاری ہے ہو جاتی۔ایک دفعہ حضرت خنساء آپ سے ملنے آئیں تو حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے اپنا کوئی قصیدہ سناؤ۔حضرت خنساء نے اپنے بھائی کے متعلق ایک قصیدہ کہا ہوا تھا وہ حضرت عمرؓ کو سنایا۔وہ قصیدہ سُن کر آپکی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ نے فرمایا افسوس میں شاعر نہیں۔اگر میں شاعر ہوتا تو میں بھی اپنے بھائی کے متعلق ایسا ہی مرثیہ کہتا۔حضرت خنساء نے کہا میرا بھائی تو کفر کی حالت میں مرا ہے لیکن آپ کا بھائی خدا تعالیٰ کی راہ میں مرا ہے اور اس نے اللہ تعالیٰ کے قرب میں جگہ پائی ہے۔اگر میرا بھائی اس طرح مرتا تو میں اس کا ہر گز افسوس نہ کرتی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا آپ ٹھیک کہتی ہیں۔خنساء ایسی عورت تھیں کہ جن کی ساری عمر ہی مصیبت میں گزری اور وہ مصیبت ہی ان کو شاعرہ بنانے کا موجب ہوئی۔وہ ایک رئیس کی لڑکی تھیں باپ نے ایک رئیس کے لڑکے سے ان کی شادی کی لیکن وہ لڑکا بہت عیاش اور جوئے باز تھا اور ہر وقت شراب کے نشہ سے بدمست رہتا تھا۔شادی کے کچھ عرصہ بعد اس لڑکے کا والد فوت ہو گیا۔اس نے تمام جائیداد جوئے اور شراب میں تباہ کر دی اور خنساء کے باپ نے جو کچھ دیا تھا وہ بھی کھا گیا اور اس عرصے میں خنساء کا باپ بھی فوت ہو گیا۔جب ساری جائیداد اس نے تباہ کر دی اور جوا کھیلنے اور شراب کے لئے پاس کچھ نہ رہا تو وہ سخت غمگین ہوا۔ایک دن افسوس کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا کہ خنساء اس کے پاس گئیں اور پوچھا اِس قد را فسردہ کیوں ہو؟ کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا ہونا کیا تھا سارا مال تباہ ہو گیا