خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 135

خطبات محمود 135 سال 1947ء ނ خوف و ہراس بالکل جاتا رہا۔اسلامی کمانڈر نے جب دریا کو پشت پر رکھا تو بعض مسلمانوں نے اس کے سامنے یہ بات پیش کی کہ عربوں کو دریا پار کرنا نہیں آتا۔اگر ان کو پیچھے ہٹنا پڑا تو ان کی پوزیشن خطر ناک ہو جائے گی لیکن کمانڈر نے ان کی بات نہ مانی۔لڑائی شروع ہو گئی۔دشمن کی سپاہ بہت زیادہ تھی۔مسلمانوں کو اپنے بچاؤ کے لئے پیچھے ہٹنا پڑا۔لڑائیوں میں فوجیں آگے بھی بڑھتی ہیں اور پیچھے بھی ہٹتی ہیں۔موقع کے مطابق قدم اٹھایا جاتا ہے۔اسلامی فوجیں اس سے پیچھے ہیں کہ ہم ذرا پیچھے ہٹ کر اپنی تنظیم کو مضبوط کر لیں گے اور پھر زیادہ زور سے حملہ کریں گے لیکن دشمن کا اس قدر زور تھا کہ ان کو اتنا پیچھے ہٹنا پڑا کہ دریا کا کنارا آ گیا۔جب وہ دریا کے کنارے تک پہنچ گئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں بھی اُن کے لئے کوئی ایسی جگہ نہ تھی جس میں وہ سب منظم ہو کر حملہ کر سکتے۔اس لئے مسلمان ندی میں کود گئے اور چونکہ وہ تیرنا نہیں جانتے تھے بہت سے ان میں سے ڈوب گئے اور کچھ ایک چھوٹے سے پل کی طرف دوڑے جو کہ دریا کو عبور کرنے کے لئے بنا ہوا تھا اُس پر دشمن قبضہ کر چکا تھا۔وہ درمیان میں ہی تھے۔چنانچہ انہیں دشمن کی فوجوں نے گھیر لیا اور بتوں کو قتل کر دیا۔بہت تھوڑے مسلمان وہاں باقی رہ گئے اور مدینہ قریباً ننگا ہو گیا اور مسلمانوں کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ اب دشمن مدینہ پر حملہ کر دے گا۔اُس وقت حضرت عمرؓ نے شام کی طرف آدمی بھجوائے کہ جتنی فارغ فوج وہاں ہے وہ بھیج دی جائے اور کچھ آدمی قبائل میں سے جمع کئے اور ایک چھوٹا سا لشکر مقابلہ کے لئے تیار کیا۔وہ ایسا نازک موقع تھا کہ حضرت عمرؓ نے فیصلہ کیا کہ لشکر کی کمان میں خود کروں گا اور میں خود میدانِ جنگ میں جاؤں گا۔باقی صحابہ نے آپ کی رائے سے اتفاق کیا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ کا میدانِ جنگ میں جانا مناسب نہیں کیونکہ اگر خدانخواستہ ہمیں شکست ہو تو آپ اور لشکر بھجوا سکتے ہیں۔لیکن اگر آپ ہمارے ساتھ میدان جنگ میں چلیں اور آپ خدانخواستہ شہید ہو جا ئیں تو پھر سوائے مسلمانوں کی تباہی اور ابتری کے اور کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔باقی صحابہ نے بھی حضرت علی کی بات کی تائید کی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی بات مان لی اور حضرت سعد کو فوج کا کمانڈر مقرر کیا۔اتفاق کی بات ہے کہ عین اس خطر ناک موقع پر انہیں ایک پھوڑا نکل آیا جس کی تکلیف کی وجہ سے آپ بیٹھ نہیں سکتے تھے جب تک کہ چاروں طرف سے کسی چیز کا سہارا نہ ہولیکن