خطبات محمود (جلد 28) — Page 131
خطبات محمود 131 سال 1947ء وقف نہیں کریں گے ہم ان سے جائیداد کا 1/2 فیصدی اور ماہوار آمد کا1/2 لیں گے۔اُن سے جائیداد کا ایک فیصدی اور پورے مہینے کی تنخواہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ غیر واقفین ہیں اور جولوگ با باوجود اس نازک وقت کے حصہ نہیں لیں گے ہم آئندہ ان کو کسی ہنگامی تحریک میں شامل نہیں کریں گے۔قرآن کریم بھی ایسے لوگوں کے متعلق یہی فرماتا ہے کہ اِن لوگوں کو کہہ دو کہ تم ہمارے ساتھ جہاد کے لئے مت نکلو ہمیں تمہاری ضرورت نہیں۔6 لیکن ایسے لوگوں کو اسلام سے نہیں نکالا۔اس لئے ہم بھی ایسے لوگوں کو جماعت سے نہیں نکالیں گے لیکن آئندہ ان کو ایسی تحریک میں شامل نہیں کریں گے۔نادان کہے گا کہ اُن کے تو مزے ہو گئے کہ اُن کو کچھ بھی دینا نہ پڑا۔لیکن وہ نہیں جانتا کہ مومن کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی عذاب نہیں کہ اسے قربانی کرنے سے محروم کر دیا جائے۔اس کے لئے وہ دوزخ کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔کیونکہ مومن قربانی کو سب سے بڑا انعام سمجھتا ہے۔اُس کے لئے دوزخ آسان ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ قربانی پیش کرے اور اُسے رد کر دیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں اس قسم کا ایک واقعہ نظر آتا ہے۔ایک شخص جو بہت غریب تھا وہ آپ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے تا کہ میں بھی مالی قربانیوں میں حصہ لے سکوں۔آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور اس کے مال میں اتنی برکت پیدا ہو گئی کہ چند سالوں میں ہی اس کے پاس اتنا مال ہو گیا کہ اس کے جانوروں سے ایک وادی بھر جاتی تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقرر کردہ آدمی اُس کے پاس زکوۃ لینے کے لئے گیا تو اس نے کہا جب دیکھو چندہ مانگنے کی ہی فکر رہتی ہے۔ان جانوروں کو کھلائیں پلائیں یا تمہارے لئے چندے کا انتظام کریں۔وہ آدمی واپس آ گیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں آدمی نے آج مجھے اس قسم کا جواب دیا ہے۔آپ نے فرمایا آئندہ اس سے کبھی زکوۃ نہ لی جائے۔معلوم ہوتا ہے اس کے اندر بھی ایمان کی کوئی چنگاری باقی تھی۔ہوسکتا ہے کہ اگر اس سے جبر از کوۃ کا مطالبہ کیا جاتا تو اس کے اندرضد پیدا ہو جاتی اور وہ چنگاری بجھ جاتی مگر اسے سزادی گئی زکوۃ نہ لینے کی اور وہ سمجھ گیا کہ میرے لئے سب سے بڑی چوٹ یہی ہے کہ آئندہ کے لئے میں ثواب سے محروم کر دیا گیا ہوں۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔وہ شخص بعد میں اپنا ز کوۃ کا مال حضرت ابوبکر کے پاس لے کر آتا لیکن آپ اس کے قبول کرنے سے انکار کر