خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 130

خطبات محمود 130 سال 1947ء آئے تو دروازہ کھلا ہوا دیکھا۔شبہ پڑا کہ اندر چور ہے۔مرد کچھ ڈرپوک تھا وہیں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا جی میڈیز فسٹ عورتیں آگے چلیں لیکن اس کی سالی بجائے گھر میں داخل ہونے کے واپس چل پڑی اور ان کہنے لگی کہ میں پولیس میں اطلاع دینے جارہی ہوں۔ان کی بیوی بھی اس کے پیچھے چل پڑی کہ مجھے وہاں کمرہ کا سامان بتانا ہو گا میں بھی جاتی ہوں۔اس پر مرد گھبرا گیا اور بولا کہ میں تم کو اکیلے نہیں ہے جانے دیتا چلو میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔لیکن ہمارے ہاں خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ہمارے مرد ایسے نہیں کہ وہ خود پیچھے بیٹھ ر ہیں اور عورتوں سے کہیں کہ تم آگے بڑھو۔کوئی ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ جب مرد تمام کے تمام مارے جائیں۔اُس وقت عورتوں کا کام ہے کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیں۔اور ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے۔لیکن جب تک مرد موجود ہیں ہماری جماعت کا یہ طریق نہیں کہ وہ عورتوں کو بھی نعرے لگوائیں۔ہاں جب مر دفنا ہو جائیں تو پھر بے شک عورتیں آگے آئیں اور دین کے جھنڈے کو بلند رکھنے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں۔لیکن عام حالات میں اُن کا یہ کام نہیں کیونکہ ان کے ساتھ حاملہ ہونے اور حائضہ ہونے کے جو عوارض ہیں وہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں گھر بیٹھنے کے لئے بنایا ہے۔پس جب تک ایک مرد بھی زندہ ہے اس کا کام ہے کہ وہ عورتوں کی حفاظت کے لئے جان دیدے۔اس کے بعد عورتیں بے شک میدان میں آئیں کیونکہ وہ بھی خدا کی بندیاں ہیں اور دین کے جھنڈے کو بلند رکھنا ان کا بھی فرض ہے۔اس لئے وہ لڑتی ہوئی میدانِ جنگ میں ہی جان دیدیں لیکن دین کے جھنڈے کو سرنگوں نہ ہونے دیں۔بہر حال اس وقت مخاطب دونوں ہیں۔مرد بھی میرے مخاطب ہیں اور عورتیں بھی میری مخاطب ہیں لیکن زیادہ ذمہ داری مردوں پر ہے۔اس سے اتر کر عورتوں پر ہے۔عورتوں میں سے بھی جو صاحب جائیداد ہوں اُن کو چاہیئے کہ وہ اپنی جائیداد کا ایک فیصدی دیں اور جن کو خاوند کچھ رقم بطور جیب خرچ دیتے ہیں وہ اس کے برابر دیں اور جن کی جائیداد آمد سے زیادہ ہے وہ جائیداد کا حصہ دیں کیونکہ مومن ہمیشہ قربانی کی زیادتی کو پسند کرتا ہے کمی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔اور جس کی ماہوار آمد جائیداد سے زیادہ ہے وہ ماہوار آمد دے اور جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ دونوں ہی پیش کر دیں۔یہ وقت جماعت کے امتحان کا ہے۔ہر فرد کو کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہو۔ڈیڑھ ماہ کے اندراندر وقف کرنے والے بھی واقفین کی صف اوّل میں کھڑے ہوں گے۔اور جو لوگ