خطبات محمود (جلد 28) — Page 106
خطبات محمود 106 سال 1947ء اچھا نظر نہیں آتا۔دوسری قربانی دینی ہے اور یہ ایسی قربانی ہے جو کہ کبھی بھی انسان کو خسارہ میں نہیں رکھتی۔کیونکہ یہ قربانی راستبازی پر مبنی ہے اور سچائی کبھی بھی پھل کے بغیر نہیں رہتی۔دنیوی قربانی میں نقطہ نگاہ اولاد ہوتی ہے اور دنیوی اولاد کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ وہ جیتے جی ہی ملنے اور خدمت کرنے سے جی چراتی ہے لیکن دینی قربانی کے نتیجے میں جو روحانی اولاد پیدا ہوتی ہے وہ ہزاروں سال تک اپنے آباء واجداد کو نہیں بھولتی۔سرحد کی طرف کے بعض طالب علم میرے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔میں نے ان سے سنا تھا کہ سرحد میں اگر کسی کے ماں باپ کو گالی دی جائے تو وہ اتنابُرا نہیں منا تا جتنا کہ اسے اپنے پیر کے متعلق کوئی بُرے الفاظ سن کر غصہ آتا ہے اگر کسی کے پیر کے متعلق کوئی بُرا لفظ کہ دیا جائے تو فوراً دوسرے شخص کو مار ڈالے گا خواہ اُس کا پیر ہو یا نہ ہو۔بہر حال لفظ پیر کو ہی وہ قابل تعظیم سمجھتے ہیں۔امرتسر میں ہم نے دیکھا کہ کچھ سندھی جو تیاں ہاتھ میں پکڑے ہوئے گزر رہے تھے۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ اپنے پیر کی قبر کی زیارت کے لئے جار ہے ہیں۔پتہ نہیں کہ اُن کا پیر کب کا فوت ہو چکا تھا لیکن اب تک اس کی عظمت ان کے دلوں میں گھر کئے ہوئے ہے اور وہ اسکی قبر کے لئے ننگے پاؤں پیدل چل کر آتے ہیں۔یہ نظارے روحانی اولاد کے متعلق ہی ہم دیکھتے ہیں۔جسمانی اولا د تو دوسرے دن ہی بھول جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات یہ پسند نہیں کرتی کہ اس کے پیاروں کی محبت دنیا کے دلوں سے نکل جائے۔جب دنیا بھولنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی مامور کے ذریعہ پھر ان کے ناموں کو دنیا کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کو گزرے ہوئے ہزاروں سال گزر گئے ہیں اور کوئی شخص قسم کھا کر نہیں کہہ سکتا کہ نوح علیہ السلام میرے باپ تھے اور میں ان کی نسل میں سے ہوں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کر کے دوبارہ آپ کی یاد آپ کی اولاد کے دلوں میں تازہ کر دی۔اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد بھی آپ کو بھول چکی تھی اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ حضرت آدم کب پیدا ہوئے اور کہاں پیدا ہوئے اور ان کے حالات کس قسم کے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بھی قرآن شریف میں ذکر کر کے دوبارہ تمام بنی نوع انسان کو یاد دلایا کہ حضرت آدم تمہارے باپ و