خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 101

خطبات محمود 101 سال 1947ء زمینداروں سے مار کھا لیتے ہیں ۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حالت میں مار کھائی جبکہ آپ کے پیچھے ایک کافی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو کہ آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کے لئے تیار تھے۔ اس لئے آپ کا مارکھانا بہادری کی دلیل تھا۔ لیکن جولاہا جب مارکھا تا ہے تو وہ بے ا بس ہوتا ہے ۔اس لئے وہ بے غیرت کہلاتا ہے۔ پس تمہیں اپنے اندر بہادری کی روح پیدا کرنی چاہیئے ۔ مگر یہ بات بھی ہمیشہ مد نظر رکھو کہ مومن کبھی کسی پر حملہ نہیں کرتا۔ اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ خود بھی امن میں رہے اور دوسروں کو بھی امن دے۔ اور یہی ہماری جماعت کے قیام کی غرض ہے ۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ تم لوگوں کو تبلیغ کرو اور احمدیت کے قلعہ میں ان کو داخل کرنے کی کوشش کرو ۔ کیونکہ سب سے بڑی تنظیم اور سب سے بڑی حفاظت احمدیت میں ہے ۔ جب تک لوگ ایک ہاتھ پر جمع نہیں ہوتے کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ اور یہ ہاتھ بھی ایسا ہاتھ ہے جو اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ ہے اب اسلام کا شیرازہ احمدیت کی مضبوط رسی سے وابستہ ہے اور ہمارا ہےا۔ فرض ہے کہ تبلیغ احمدیت پر زور دیں اور کوشش کریں کہ دنیا کا کوئی فردایسا نہ رہ جائے جسے ہم خدا اور اس کے رسول کا پیغام نہ پہنچا دیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے ساتھ ہو اور اسے صحیح رنگ میں اپنے فرائض کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔“ ( غیر مطبوعه مواد از خلافت لائبریری ربوه )