خطبات محمود (جلد 28) — Page 95
خطبات محمود 95 95 سال 1947ء ہماری ذاتی چیز ہے ہم جس طرح چاہیں اُسے خرچ کر سکتے ہیں۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بات درست ہے۔لیکن ایک چیز ایسی ہے جس کو مد نظر رکھنے سے باوجود اس کے کہ وہ اپنا روپیہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں گے اُن کو ثواب حاصل ہوتا رہے گا۔اور وہ یہ ہے کہ اُس روپے کو وہ ایسے طور پر خرچ کریں جس سے جماعت کو تقویت پہنچے۔اگر ایک تاجر ایسے طور پر تجارت کرتا ہے کہ اُس سے سلسلہ کو فائدہ پہنچے ، اگر ایک صناع ایسے طور پر صنعت کرتا ہے کہ اس سے جماعت کو فائدہ پہنچے تو وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔اس طرح ہمارے ہر کام پر یہ ٹھپہ لگا ہوا نظر آنا چاہیئے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔مثلاً اگر کسی شہر کے تاجر مل کر پچاس ساٹھ احمد یوں کو تجارت کا کام سکھا دیتے ہیں اور اسی طرح اُن کے لئے روزی کمانے کا سامان مہیا کر دیتے ہیں تو یہ چیز اُن کے ذاتی منافع سے بہت زیادہ قیمتی ہو گی۔کیونکہ جان کی قیمت مال سے زیادہ ہوتی ہے۔اگر کسی شخص کی کوشش سے ایک بُھو کا شخص بھی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے تو یہ ہمارے لئے زیادہ خوشی کا موجب ہے بہ نسبت اس کے کہ ہمارا کوئی تاجر پچاس ہزار روپیہ کمالے۔کیونکہ بھوک کا ڈر قوم کے اعضاء کو مضمحل کر دیتا ہے۔لوگ دو بیویاں صرف اس ڈر سے نہیں کرتے کہ ہمیں کھانے کو کہاں سے ملے گا۔بہار میں جو تبا ہی مسلمانوں پر آئی تھی اُس کا علاج میں نے بہار والوں کو یہی بتایا تھا کہ تم لوگ شادیاں زیادہ کرو۔تمہاری عورتیں ری شادی کو پسند کریں یا نہ کریں لیکن چونکہ تمہارا ہندوؤں سے مقابلہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ تمہاری تعداد جلدی جلدی بڑھے۔بیشک عورت یہ پسند نہیں کرتی کہ اُس کا خاوند کوئی دوسری شادی کرے۔لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کا یہ اجازت دینا بتاتا ہے کہ ایک وقت قوموں پر ایسا بھی آتا ہے جب اُنہیں فطری تقاضوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تَزَوَّجُوا وَلُودًا وَ دُودًا 5 تم بچے پیدا کرنے والی اور محبت کرنے والی بیویوں سے شادی کرو۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر زیادہ بچے ہو جائیں گے تو ہم بھو کے مریں گے۔لیکن مجھے حیرت آتی ہے کہ کیا ان قوموں کو صحابہ سے زیادہ بھو کے رہنے کا خطرہ ہے؟ صحابہ کی یہ حالت تھی کہ بعض دفعہ کھجوروں پر اور بعض دفعہ اونٹنی کے دودھ پر ہی گزارہ کر لیتے تھے۔آجکل کے تو غریب بھی اُس وقت کے امراء سے بہت اچھا گزارہ کرتے ہیں اور امراء کی یہ حالت۔