خطبات محمود (جلد 28) — Page 454
خطبات محمود 454 سال 1947ء میدان میں ان چیزوں کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔تو دیکھو انصار نے کیسے معقول طور پر اس نکتہ کو بیان کیا ہے کہ جب تک ایمان کامل نہیں تھا ہمارا تعلق محض عقلی تھا۔لیکن اس کے بعد ہمارا عقلی تعلق نہیں رہا۔عقل سے کام لیا جائے تو انسان یہی کہتا ہے کہ میں کیوں مروں ؟ یا کس حد تک قربانی کروں؟ مگر جذ بات یہ نہیں کہتے۔بچہ بیمار ہوتا ہے، اُسے ٹائیفائیڈ ہوتا ہے چالیس چالیس دن تک اُس کا بخار چلتا جاتا ہے۔تو ماں راتوں کو جاگتی ہے، اس کی خبر گیری کرتی ہے، اور ہر وقت می بچہ کی نگہداشت اور اس کی تیمارداری میں مصروف رہتی ہے۔اُس وقت اگر کوئی شخص اُسے یہ کہے کہ تو اتنی مشقت کیوں برداشت کرتی ہے؟ تو کچھ دیر کے لئے رات کو آرام بھی کیا کر۔تو وہ یہ نہیں کہے گی کہ جزاک اللہ تو میرا بڑا ہمدرد ہے۔بلکہ وہ اُسے گالیاں دے گی اور کہے گی تو کہاں سے میرا خیر خواہ نکل آیا۔اسی طرح اصل مقام ایمان کا جذباتی ایمان ہوتا ہے۔جب تک عقل سے کوئی چیز تمہاری سمجھ میں نہیں آتی اُس وقت تک تم اُسے کبھی قبول نہ کرو۔لیکن جب عقل سے کوئی بات تمہاری سمجھ میں آجاتی ہے اور اُس کے درست ہونے کے تمام دلائل تم پر واضح ہو جاتے ہیں۔تو اُس کے بعد ایک ہی ذریعہ تمہاری کامیابی کا رہ جاتا ہے کہ تم عقل کو تہہ کر کے رکھ دو اور جذبات کی رو میں بہہ جاؤ۔صرف جذبات ہی جذبات تمہارے اندر کام کر رہے ہوں۔جب تک تم جذبات کی کشتی میں نہیں بیٹھتے اُس وقت تک تم حوادث اور طوفان سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔تمام انبیاء کی امتوں نے ایسا ہی کیا اور تمہیں بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔اگر احمدیت تم نے عقل سے قبول نہیں کی تو تم نئے سرے سے دلائل پر غور کرو اور نئے سرے سے سوچو کہ مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے یا نہیں؟ اور اگر تم پہلے سوچ چکے ہو یا دوبارہ سوچ کر نتیجہ نکالتے ہو کہ احمدیت کچی ہے۔اگر تم کوئی بھی نفع دنیا میں حاصل کرنا چاہتے ہو اگر تم کوئی بھی مفید کام دنیا میں کرنا چاہتے ہو، تو تم عقل کو تہہ کر کے رکھ دو اور اُسے کہو کہ تم نے جس حد تک قربانی کرنی تھی کر دی۔اب تمہارا کام نہیں اب جذبات سے کام لینے کا وقت آگیا ہے۔اب موت اور حیات اور نفع اور نقصان کا میرے لئے کوئی سوال نہیں۔جب تک میں نے حقیقت کو نہیں سمجھا تھا مجھے نفع اور نقصان کا احساس تھا۔لیکن جب میں نے حقیقت کو سمجھ لیا تو ہر نیک انجام یا ہر بد انجام میرے لئے ایک بے حقیقت شے ہے۔میرا راستہ میرے سامنے ہے اور اس سے ہٹنا یا ادھر اُدھر