خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 425

خطبات محمود 425 سال 1947ء طرف سے اُن پر عائد ہوتا ہے۔ہماری جماعت ایک جماعت ہے فرد نہیں۔فرد مرا کرتے ہیں جماعتیں نہیں مرا کر تیں۔فرد کا کام ایک وقت پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔مگر جماعتوں کا کام کسی وقت ختم نہیں ہوتا۔سوائے اس کے کہ وہ آپ ہی ختم ہو جانا چاہتی ہوں۔پس تحریک جدید کسی ایک سال کے لئے نہیں ، دو سال کے لئے نہیں ، دس سال کے لئے نہیں ہیں سال کے لئے نہیں، سوسال کے لئے نہیں ، ہزار سال کے لئے نہیں تحریک جدید اُس وقت تک کے لئے ہے جب تک جماعت کی رگوں میں زندگی کا خون دوڑتا ہے۔جب تک جماعت احمد یہ دنیا میں کوئی مفید کام کرنا چاہتی ہے اور جب تک جماعت احمد یہ اپنے فرائض اور اپنے مقاصد کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہتی ہے۔تحریک جدید در حقیقت نام ہے اُس جدو جہد کا جو ایک احمدی کو احمدیت اور اسلام کی اشاعت کے لئے کرنی چاہیئے۔تحریک جدید نام ہے اُس جدو جہد کا جو اسلام اور احمدیت کے احیاء کے لئے ہر احمدی پر واجب ہے۔اور تحریک جدید نام ہے اُس کوشش اور سعی کا جو اسلامی شعار اور اسلامی اصول کو دُنیا میں قائم کرنے کے لئے ہماری جماعت کے ذمہ لگائی گئی تھی ہے۔روپیہ کا حصہ صرف ایک ظاہری نشانی ہے کیونکہ اس زمانہ میں کچھ نہ کچھ دولت خرچ کئے بغیر کام نہیں ہوسکتا۔ورنہ در حقیقت تحریک جدید نام ہے اُس عملی کوشش کا جو ہر احمدی اپنی اصلاح اور دوسروں کی اصلاح کے لئے کرتا ہے۔ہر وہ احمدی جس کے سامنے تحریک جدید کے مقاصد نہیں رہتے در حقیقت وہ اپنی موت کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے یا اپنی زندگی کے لئے کوئی کوشش کر نا پسند نہیں کی کرتا۔خدائی سلسلے در حقیقت انسانوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ انسان خدائی سلسلوں کے محتاج ہوتے ہیں۔خدا کی طرف سے آنے والی روح اُسی طرح دنیا میں بکھر جاتی ہے جس طرح بارش کا پانی جب آسمان سے برستا ہے تو وہ دنیا میں بکھر جاتا ہے۔جس طرح اچھا کسان بارش کا پانی جمع کر کے اپنی فصل کے لئے نہایت مفید سامان بہم پہنچاتا ہے۔اسی طرح ہوشیار مومن اللہ تعالیٰ کے فیضان کی بارش کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور نہ صرف اس دنیا میں بلکہ اگلے جہان میں بھی اُس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔لیکن بیوقوف اور نادان اور جاہل کسان پانی کی پروا نہیں کرتا۔وہ ضائع چلا جاتا ہے۔اور پھر سارا سال وہ چیختا اور چلا تا اور روتا ہے۔مگر اُس کی آواز نہیں سنی جاتی۔کیونکہ وہ آواز خدا تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہوتی ہے۔پس آج میں چودہویں سال کی