خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 328

سال 1947ء خطبات محمود 328 خص آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اتنا گھونٹا کہ آپ کی آنکھیں سرخ ہو کر باہر نکل پڑیں۔حضرت ابو بکر نے سنا تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تکلیف کی حالت میں دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے ان کفار کو ہٹاتے ہوئے کہا خدا کا خوف کرو۔کیا تم ایک مسی پر اس لئے ظلم کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا رب ہے ؟3 بے شک ہماری جماعت کو بھی گالیاں ملی ہیں۔مگر جس شان کی گالیاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ہیں ہمیں نہیں ملیں۔مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ آرام سے بیٹھے تھے کہ ابو جہل آیا اور اس نے آپ کو ایک تو تھپڑ مارا اور پھر تھپڑ مار کر اس نے بے نقط گندی سے گندی گالیاں آپ کو دینی شروع کر دیں کہ میں تم کو تباہ کر دوں گا، برباد کر دوں گا، بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے، قوم فروش ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹان پر اپنے ہاتھ پر ٹھوڑی رکھے بیٹھے تھے۔آپ سنتے رہے تھپڑ بھی کھا لیا اور گالیاں بھی سنتے رہے۔جب وہ گالیاں دیتے دیتے تھک کر چلا گیا تو آپ خاموشی سے اُٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔حضرت حمزہ کی ایک لونڈی اپنے گھر میں سے دروازہ میں کھڑی یہ نظارہ دیکھ اور سن رہی تھی۔حمزہ اُس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے۔وہ سپاہی آدمی تھے اور سارا دن شکار میں لگے رہتے تھے اور شام کے وقت اپنے گھر آتے تھے۔اُس روز بھی وہ شام کے وقت نہایت ہی تکبر سے سینہ تان کر زور زور سے پیر مارتے اور ہاتھ میں تیر کمان پکڑے اُچی 4 بنے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔وہ لونڈی گھر کی پرانی خادمہ تھی۔اور پرانے نوکر بھی رشتہ داروں کی طرح ہوتے ہیں۔صبح سے وہ اپنا غصہ دبائے بیٹھی تھی۔جب اس نے حمزہ کو دیکھا تو بڑے جوش سے کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی تیر کمان لئے جانور مارتے پھرتے ہو۔تمہیں پتہ ہے کہ صبح تمہارے بھتیجے کے ساتھ کیا ہوا؟ حمزہ نے کہا کیا ہوا ؟ اس نے کہا میں دروازہ میں کھڑی تھی تمہارا بھتیجا سامنے پتھر پر آرام سے بیٹھا تھا اور کچھ سوچ رہا تھا۔اتنے میں ابو جہل آیا اور اس نے پہلے تو اُس کو تھپڑ مارا اور پھر بے تحاشا گالیاں دینی شروع کر دیں۔پھر اس نے اپنے زنانہ انداز میں کہا اس می نے ابو جہل کو کچھ بھی تو نہیں کہا تھا۔کوئی بات اس نے نہیں کی تھی جس کی وجہ سے ابو جہل کو غصہ آتا مگر وہ پھر بھی گالیاں دیتا گیا اور دیتا گیا اور تمہارا بھتیجا چپ کر کے سامنے کی طرف دیکھتا گیا۔اور اس نے ان کا کوئی جواب نہ دیا۔ایک عورت اور پھر خادمہ کی زبان سے یہ بات سن کر حمزہ کی