خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 282

خطبات محمود 282 سال 1947ء والوں پر اعتراض کیا کرتے ہیں۔حالانکہ قادیان والے جو کچھ کام کر رہے ہیں وہ باہر کے لوگ نہیں کر رہے۔باہر کے لوگ کبھی ایک دن چھٹی لے کر قادیان جاتے اور دس گھنٹے مسجد میں بیٹھ رہتے ہیں۔تو قادیان والوں پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ مسجد میں نہیں بیٹھتے۔حالانکہ یہ لوگ سال میں صرف ایک دن مسجد میں بیٹھتے ہیں اور قادیان والے سارا سال وہاں آتے جاتے اور مرکزی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔اب بھی قادیان والے ہی کام کر رہے ہیں اور ایسی قربانی کر رہے ہیں کہ صاف نظر آتا ہے۔اب اس سے زیادہ ان پر بار نہیں ڈالا جاسکتا۔ڈیڑھ مہینہ ان کو کام کرتے گزر گیا ہے اور اس ڈیڑھ مہینہ میں بعض آدمی ایسے ہیں جو کسی دن بھی دو تین گھنٹہ سے زیادہ نہیں سو سکے۔وہ مجھے آرام پہنچانے کی پوری کوشش کرتے رہے ہیں اور ان کی خواہش رہی ہے کہ مجھے نہ جگائیں۔مگر پھر بھی دو گھنٹے سے زیادہ سونے کا مجھے کبھی موقع نہیں ملا۔اور جی بعض دفعہ تو پندرہ منٹ کے بعد ہی ایک دوسرا شخص آجاتا ہے اور آواز دیتا۔ایسی صورت میں نیند کہاں آسکتی ہے۔ان لوگوں پر تو آپ اعتراض کرتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں لیکن آپ لوگوں کی خود اپنی یہ حالت ہے کہ صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر یہاں قائم ہوئے اور آپ نے کوئی کام نہ کیا۔اور میرے آنے کے بعد تو یہاں کی جماعت کے لوگ اس طرح اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے۔جیسے کہتے ہیں عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پر ڈالا جو بارا پنا انہوں نے سمجھا کہ چلو چھٹی ہوئی کام کرنے والا آ گیا ہے۔گویا تم نے بھی وہی کہہ دیا جو موسی" کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ اِذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ 1 من سے یہ کہنے سے کیا بنتا ہے کہ ہم موسی کے ساتھیوں جیسے نہیں۔تم یہ تو بتاؤ کہ تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے کوئی خدمت کی ہو۔پھر تم کس منہ سے کہتے ہو کہ ہم وہ نہیں جنہوں نے موسی" سے یہ کہا تھا کہ اذهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ۔پھر موسیٰ کی قوم اُس کے ساتھ تو گئی تھی۔صرف اُس نے لڑائی کرنے سے انکار کیا تھا۔مگر تم تو ساتھ بھی نہیں چلے۔پس پہلے تو میں افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتا ہوں کہ بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے ان دنوں کوئی خدمت کی ہو۔صرف چند افراد ہیں جو کام کر رہے ہیں باقی ساری جماعت سوتی رہی ہے اور اُس نے سلسلہ کی مصیبت اور سلسلہ کی تکلیف اور سلسلہ کے دکھ اور سلسلہ کے بڑھتے