خطبات محمود (جلد 28) — Page 20
خطبات محمود 20 20 سال 1947ء ہوتا ہے کہ کسی نے اُن خاتون کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ذکر کیا کہ ایک ما مور آیا ہے تو انہوں نے کہا چلو ہم بھی مان لیتے ہیں۔یا ہوسکتا ہے کہ اُن کے خاوند احمدی ہوں اور اس وجہ سے وہ بھی احمدی ہوگئی ہوں۔لیکن اُن کو بھی احمدیت کی تعلیم اور اس کے مسائل سے واقفیت ہی نہ تھی اس لئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیکچروں کو سمجھ نہ سکی۔پس جب تک ایسے لوگوں کی تربیت نہ کی جائے اور اُن کو مسائل سے آگاہ نہ کیا جائے وہ علم و عرفان کی باتوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔وہ تو یہی سمجھیں گے کہ الف لیلی سنائی جارہی ہے۔جماعت میں علم پیدا کرنے کے لئے ، جماعت میں تنظیم پیدا کرنے کے لئے ، جماعت کو بیدار کرنے کے لئے ہمیں دیہاتی مبلغوں کی اشد ضرورت ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر گاؤں میں اپنا ایک ایک مبلغ بٹھائیں اور کوئی جگہ ایسی نہ رہے جہاں ہمارا مبلغ موجود نہ ہو۔لیکن اگر حالت یہ ہو کہ ہم تو سکھانے کو تیار ہوں، ہم تو مبلغ بنانے کو تیار ہوں لیکن آدمی ہی نہ ہوں تو ہم سکھائیں کسے اور مبلغ کسے بنائیں۔پس تمام جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس تحریک کو دوستوں میں پھیلائیں اور اسی ماہ کے اندر اندرا ایسے لوگوں کے نام بھجوا دیں جو کہ دیہاتی مبلغین میں کام کرنا چاہتے ہوں۔یا اگر اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں خود یہ تحریک پیدا کرے تو ایسے انسان کو بھی دیر نہیں کرنی چاہئیے اور اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کر دینا چاہیے۔جتنی جلدی ہو سکے ہمارے پاس نام پہنچ جانے چاہئیں تا کہ ہم کلاس شروع کراسکیں۔اور شامل ہونے والے ابتدا سے ہی کلاس میں شامل ہو جائیں۔بعد میں آنے والے اپنی تعلیم میں کمی محسوس کرتے ہیں اور ساتھ چل نہیں سکتے۔ہمارا ارادہ ہے کہ جنوری کے آخر یا فروری کے شروع میں یہ کلاس جاری کر دی جائے۔جو لوگ بعد میں آئیں گے وہ تعلیم میں پیچھے رہ جائیں گے۔میں نے دیکھا ہے کہ جو دوست چار پانچ ماہ کے بعد آتے ہیں وہ کلاس میں چل نہیں سکتے اور پھر معذرت شروع کر دیتے ہیں کہ ہم یکدم اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے اور ہم کلاس کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ابتدا میں شامل ہونا اُن کے لئے بھی فائدہ مند ہے ہمارے لئے بھی فائدہ مند ہے اور سلسلہ کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ہمارے لئے اس طرح فائدہ مند ہے کہ ہم آسانی سے ان کی پڑھائی ختم کرا سکتے ہیں۔اور ان کے لئے اس طرح فائدہ مند ہے کہ وہ آسانی سے اپنا کورس ختم کر سکتے ہیں۔سلسلہ کا یہ فائدہ ہے کہ وہ زیادہ علم حاصل کر کے زیادہ ہے