خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 275

خطبات محمود 275 سال 1947ء ہوں تو میری مدد فرما کہ میں ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح کامل وجود تھے۔اسی طرح آپ نے اس دعا کو بھی کامل بنا دیا۔آپ نے اس دعا میں يَا غَافِرَ الذَّنْبِ العَظِیم کہہ کر خدا تعالیٰ کی عظمت کو جوش دلایا ہے۔یعنی ایک طرف تو آپ خدا تعالی لالی کے حضور یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! بے شک میں اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے سے قاصر ہوں۔مگر ساتھ ہی یہ عرض کرتے ہیں کہ تو بھی تو عظیم ہستی ہے۔میری کو تا ہی کتنی بھی بڑی ہو تیری عظمت کے سامنے تو کوئی چیز نہیں۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بشری کمزوری کو عظیم کہتے ہوئے خدا تعالیٰ کی صفت عظیم کو پکارا اور اس طرح اُس کی محبت کو ابھارا۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب حضرت ہارون کی داڑھی پکڑی تو حضرت ہارون نے کہا يَبْنَوةَ لَا تَأْخُذُ بِلِحْيَتِى : یعنی اے میری ماں کے بیٹے ! میری داڑھی نہ پکڑ۔یہ سن کر حضرت موسیٰ کے سامنے اپنے بچپن کے حالات اور ماں کی محبت کے نظارے آگئے اور حضرت موسیٰ کا دل ٹھنڈا ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہی طریق استعمال کیا اور اپنے سامانوں کی کمی کو تسلیم کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی صفت عظیم کو پکارا۔اور کہا يَا غَافِرَ الذَّنْبِ الْعَظِیمِ۔اے بڑے سے بڑی ہستی ! اے عظیم المرتبت خدا! اے بڑے سے بڑا گناہ بخش دینے والے خدا! میں ان تمام اقراروں کے بعد تیرے دربار میں اپنی کوتاہ دامنی کا اقرار کرتے ہوئے حاضر ہوں۔کیا لطیف اور کامل دُعا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھائی ہے۔اس میں انسان کے جذبات یوں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر پرواز کر رہے ہیں۔غرض حضرت عائشہ نے جب آپ کو سجدہ میں یہ دُعا کرتے ہوئے دیکھا تو شرمندہ ہو کر واپس آگئیں۔میں سمجھتا ہوں یہ دُعا جو آپ نے ہمیں سکھائی ہے نہایت ہی لطیف اور کامل دعا ہے کہ اللهمَّ سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَ خَيَالِی وَ آمَنَ بِكَ فُؤَادِي وَ أَقَرَّبِكَ لِسَانِی فَهَا أَنَا ذَابَيْنَ يَدَيْكَ يَا عَظِيْمُ يَا غَافِرَ الذَّنْبِ الْعَظِيمِ۔پس دعائیں کرو اور کثرت سے دعائیں کرو اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ پر تو کل بھی رکھو کہ وہ جو کچھ کرے گا ہمارے لئے بہتر ہوگا۔اور حضرت مسیح کی طرح کہو کہ اے ہمارے خدا! ہم سمجھے تو یہی ہیں کہ فلاں چیز ہمارے لئے بہتر ہے لیکن تو وہی کر جو تیری نظروں میں ہمارے لئے بہتر ہے۔یا د رکھنا چاہیئے کہ مومن ہمیشہ عقل و خرد سے کام لیتا ہے اور وہ ہر کام کرتے وقت دیکھتا ہے