خطبات محمود (جلد 28) — Page 256
خطبات محمود 256 سال 1947ء انسانی فطرت ہے کہ ایسے موقع پر کسی قدر گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت میں بات کر رہا ہوں اگر کوئی آکر میرے کان میں ہو کر دے تو میں بھی ایک لحظہ کے لئے گھبرا جاؤنگا۔مگر گھبرانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ انسان بھاگ کھڑا ہو۔اگر تم ڈر کر گز بھر یا دو گز پرے چلے جاتے اور پھر خود ہی اپنی بے وقوفی پر ہنستے ہوئے واپس آجاتے تو اور بات تھی۔مگر تم میں سے بعض نے تو ڈر کر نما ز تو را دی اور بھاگ کر اپنے گھروں تک جا پہنچے اور تم نے باقی جماعت کو بھی شرمندہ کیا۔میں نے سُنا ہے کہ باہر کے اخباروں میں بھی اس پر ہنسی اُڑائی جا رہی ہے۔میں اُن اخباروں کو جواب د سکتا ہوں مگر سوال تو یہ ہے کہ میں اپنے نفس کو کیا جواب دوں۔اخباروں اور دوسرے لوگوں کو چُپ کرای دینا میرے بس کی بات ہے مگر اپنے نفس کو چُپ کرانا میرے بس کی بات نہیں۔اب فی الحال اس کا یہی علاج ہے کہ ان لوگوں کو پکڑا ؤ جو اُس دن بھاگ گئے تھے تا کہ نہ بھاگنے والوں کے دامن اس داغ سے پاک ہو سکیں۔یہ تو ٹھیک ہے کہ انسان تہلکہ کی وجہ سے ضرور گھبرا جا تا ہے۔مگر مسجد کو چھوڑ کر بھاگ جانا تو نہایت ہی شرمناک بزدلی پر دلالت کرتا ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر تم اس ذلت کے داغ کو دور کرنا چاہتے ہو تو ان بھاگنے والوں میں سے ایک ایک آدمی کی اس طرح تلاش کرو اور انہیں اس می طرح نکالو جیسے طاعون کے چوہوں کو نکالا جاتا ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں نے طاعون کے چوہوں کو اپنے گھر سے نہ نکالا تو میرے بیوی بچے مر جائیں گے۔پس جس طرح تم اُن چو ہوں کی تلاش کرتے ہو اُسی طرح تم ایسے لوگوں کو تلاش کر کر کے نکالو۔بلکہ اس سے بھی زیادہ تعہد سے یہ کام کرو۔کیونکہ طاعون کا چو ہا صرف انسان کی جان لیتا ہے مگر اس قسم کے کمزور اور منافق لوگ قوم کی عزت کو برباد کرنے کا موجب ہوتے ہیں اور قوم کی عزت ہزاروں اور لاکھوں جانوں سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔پھر میں تمہیں کہتا ہوں کہ رمضان کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور خاص طور پر دعائیں کرو کہ وہ تمہیں اس قسم کی منافقتوں اور کمزوریوں سے بچائے۔کیونکہ جو حرکت ان کمزوروں اور بز دلوں سے ہوئی ہے وہ تم سے بھی ہو سکتی ہے۔وہ بھی اپنے دل میں اپنے آپ کو ویسا ہی بہادر سمجھتے تھے جیسے تم سمجھتے ہو۔اور وہ بھی اپنے آپ کو ایسا ہی مومن سمجھتے تھے جیسے تم سمجھتے ہو۔بیسیور