خطبات محمود (جلد 28) — Page 246
خطبات محمود 246 سال 1947ء لے لیتا ہوں۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے کام تو بہر حال خدا تعالیٰ نے ہی سرانجام دینے ہیں میں جماعت کے لوگوں کو کیوں پریشان کروں۔اللہ تعالیٰ جس رنگ میں چاہے گا اُس کی مشیت پوری ہو کر رہے گی۔در حقیقت اللہ تعالیٰ نے جس مقام پر مجھے کھڑا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو رتبہ مجھے عطا کیا گیا ہے اُس کے لحاظ سے سب سے پہلا اور آخری ذمہ دار میں ہی ہوں۔اور جماعت کے بوجھ اٹھانے کا اصل حق میرا ہی ہے۔باقی جیسے قرآن کریم میں ذوالقرنین کی کے متعلق کہا گیا ہے کہ اُس نے کہا تھا اُتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ 1 یعنی لوہے کے ٹکڑے میرے پاس لاؤ۔وہی بات میں نے بھی جماعت کے سامنے پیش کر دی ہے کہ تم اپنی جائیدادوں کا ایک فیصدی قربانی میں پیش کر دو اور بقیہ کام خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔وہ خود جماعت کی حفاظت کے سامانے پیدا کر دے گا۔اس وقت تمہارا کام صرف زُبَرَ الْحَدِیدِ پیش کرنا ہے۔ورنہ اصل اور اہم کام تو خدا تعالیٰ اور اُس کے مقرر کردہ افراد نے ہی کرنا ہے۔بلکہ افراد نے بھی کیا کرنا ہے خدا تعالیٰ نے خود ہی کرنا ہے۔جماعت تو ان مصائب اور مشکلات کے مقابلہ کی طاقت ہی نہیں رکھتی۔کیونکہ ان کو دور کرنا انسانی طاقت سے بالا ہے۔پس سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی ہستی ان کو دور کر ہی نہیں سکتی۔لیکن جو چھوٹا سا کام ہماری جماعت کے ذمہ ہے اگر جماعت اُس میں بھی سستی اور غفلت سے کام لے تو یہ نہایت ہی افسوسناک امر ہو گا اور ہماری جماعت کی آئندہ ترقیات میں روک ثابت ہوگا۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے بدنتائج سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں میں اس قدر دین، ایمان اور اخلاص بھر دے کہ ہماری یہ قربانیاں آئندہ آنے والی قربانیوں کے لئے پیش خیمہ ثابت ہوں۔اور ہم میں سے ہر فرد یہ محسوس کرے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور احسان سے ان قربانیوں کا مطالبہ کر کے اسے اعلیٰ درجہ کی نعمت کی طرف بلایا ہے نہ کہ جانی یا مالی قربانی کے لئے۔اور ہمارا انجام بخیر ہو۔اور وہ زندگی جو حقیقی زندگی ہے اور جس کے مقابلہ میں دنیوی زندگی بالکل بے حقیقت اور نا پائیدار ہے۔یعنی ہماری ابدی زندگی خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کے نیچے گزرے اور ہماری یہ عارضی اور غیر مستقل زندگی بھی ناکامی اور نامرادی کی زندگی نہ ہو۔(اللَّهُمَّ امِینَ) الفضل 21 جولا ئی 1947 ء) 1: الكهف : 97