خطبات محمود (جلد 28) — Page 237
خطبات محمود 237 سال 1947ء وزارت سے استعفیٰ دیا اور اس استعفیٰ کی وجہ سے ہندوؤں اور سکھوں نے یہ دیکھ کر کہ وزارت می ہمارے ہاتھوں سے جا رہی ہے جلسے شروع کئے اور اشتعال انگیز تقریریں کیں۔اس کے بعد فسادات شروع ہوئے تھے۔پس خدا تعالیٰ نے مجھے اُس وقت خبر دی تھی جبکہ فسادات کے لئے کوئی وجہ بھی پیدا نہ ہوئی تھی۔اور بظاہر اس کے کوئی آثار نظر نہ آتے تھے۔ایک گھر کو آگ لگنے کی خبر بتائی جاتی تو یہ بھی پوری ہونے پر عظیم الشان ہوتی۔مگر یہاں تو خدا تعالیٰ نے ایسی آگ کی خبر دی تھی جس کی دونوں فریق ایک دوسرے پر بوچھاڑ کرنے والے تھے اور لمبے عرصہ تک کرنے والے تھے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور وہ فسادات جو 3 مارچ کو شروع ہوئے تھے آج تک ختم نہیں ہوئے اور اب بھی بعض جگہوں سے آگئیں لگنے کی خبر میں آ رہی ہیں۔اس نشان کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے ان دنوں بہت سے نشانات دکھائے ہیں۔لیکن چونکہ آج میری طبیعت ناساز ہے اس لئے میں ان کے متعلق کچھ بیان نہیں کر سکتا۔بہر حال یہ نشان جو پورا ہوا ہے یہ ایک ایسا نشان ہے کہ اگر اس کو لوگوں میں پھیلایا جائے تو اس سے احمدیت کی تبلیغ میں بہت زیادہ مددمل سکتی ہے۔لاہور اور امرتسر کے لوگوں کے سامنے وہ خواب والا اخبار رکھا ہے جائے اور اُنہیں کہا جائے کہ آگئیں لگنے کی وجہ اور اس کے لئے کوئی سبب پیدا ہونے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے رویا میں مجھے ان واقعات کی خبر دے دی تھی۔اور یہ وقوعہ کوئی ایسا نہیں جیسا کہ روزمرہ کے واقعات ہوتے ہیں بلکہ یہ اپنے اندر ندرت رکھتا ہے۔ہندوستان کی گزشتہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔بلکہ دنیا کی تاریخ بھی اس آگ کی کوئی نظیر نہیں پیش کر سکتی۔دنیا کے کسی انسان کے وہم و گمان اور خیال میں بھی نہ آسکتا تھا کہ اتنی آگ لگے گی کہ وہ شہروں کے شہر اور محلوں کے محلے تباہ کر دے گی۔میں سمجھتا ہوں ان کی آگئیں لگنے کے واقعات کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ بہت سے لوگ جو فوج کی ملازمت سے واپس آئے تھے اُنہیں آگ لگانے کے طریق معلوم تھے۔اور پھر دونوں فریق کے لوگوں کے دلوں میں کینہ اور بغض ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک بھرا ہوا تھا کہ ان میں سے ہر ایک نے یہ سمجھاتی کہ جب تک میں دوسرے کو آگ سے بھسم نہ کر دوں گا میرے دل کی آگ سرد نہیں ہو سکتی۔غرض ہے بر اتنا بڑا نشان ہے کہ اگر جماعت اسے پورے طور پر پھیلائے تو یہ بہت سے لوگوں کے لئے