خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 229

خطبات محمود 229 (24) سال 1947ء (1) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی صحت اور بارانِ رحمت کے لئے پر زور دعائیں کی جائیں (2) خدائی فیصلہ ہو چکا تھا کہ آگ کی لڑائی لڑی جائے (فرمودہ 4 جولائی 1947ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”سب سے پہلے تو میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب قریباً ایک ماہ سے سخت بیمار ہیں اور اب وہ بہت ہی کمزور ہو چکے ہیں۔اور دو دن سے اُن پر قریباً بیہوشی کی سی حالت طاری ہے۔ہماری جماعت ابھی تک بہت سی تربیت کی محتاج ہے اور تربیت کے لئے صحابہ کا وجود بہت ضروری ہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت تھوڑے صحابہ باقی رہ گئے ہیں۔خصوصاً ایسے صحابہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ کے حالات سے واقف ہیں اور جنہوں نے آپ کے ابتدائی ایام سے ہی آپ کی صحبت سے فیضان حاصل کئے تھے۔اُن کی تعداد تو بہت ہی کم باقی رہ گئی ہے۔اس لئے ایسے لوگوں کا وجود جماعت کی ایک قیمتی دولت ہے اور جتنا جتنا یہ لوگ کم ہوتے چلے جاتے ہیں اُتنا ہی جماعت کی روحانی ترقی بھی خطرہ میں پڑتی چلی جاتی ہے۔اور چونکہ صحابہ کا وجود ایک قومی دولت اور قومی خزانہ ہوتا ہے اس لئے جماعت کے افراد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسے موقع پر خاص طور پر دعائیں