خطبات محمود (جلد 28) — Page 208
خطبات محمود 208 سال 1947ء جیسے انسان پیدا کئے وہاں اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ ذکی اور فہیم انسان اللہ تعالیٰ نے اس لئے بچن لئے کہ اسلام کی بہترین خدمت یہی لوگ کر سکتے تھے۔یہ سچ ہے کہ اسلام نے ان لوگوں کے نام روشن کئے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان لوگوں کے ذریعہ اسلام کا نام روشن ہوا۔حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علی کی جگہ اگر کوئی اور لوگ ہوتے جو اس قسم کا دماغ نہ رکھنے ہے والے ہوتے تو ہم قطعی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ لوگ بھی اُسی قسم کے کارنامے کرتے جیسے ان لوگوں نے کئے۔یہ الہی تدبیر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہترین دماغ رکھنے والے انسان جو کہ مذہب کی بہترین خدمت کر سکتے ہیں ، مذہب کی بنیادوں کو مضبوط کر سکتے ہیں انبیاء کو عطا کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک بہادری کا سوال ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مخالفین میں بھی بڑے بڑے تجربہ کار جرنیل تھے۔لیکن مسلمان بہادروں کے سامنے آ کر وہ رہ جاتے تھے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں ہی ضروری ہیں۔یعنی ذاتی جوہر کے ساتھ جب آسمانی روشنی مل جاتی ہے تو وہ انسان بہت بڑے کام کرنے لگ جاتا ہے۔وہی ذاتی قابلیت رکھنے والے انسان جب کفار میں تھے تو وہ صرف قبائلی سردار تھے۔لیکن جب وہ مسلمان ہو گئے تو اُنہوں نے بَيْنَ الاقوامی شہرت حاصل کر لی۔یہ بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے انسان مثلاً عمر و بن عاص یا خالد بن ولید بچپن میں ہی اسلام نہیں لائے تھے بلکہ وہ ایسی عمر میں ایمان لائے جبکہ وہ کفار کی طرف سے کئی لڑائیوں میں شامل ہو چکے تھے۔ان لڑائیوں کے ی اوقات میں بھی ان میں اچھے جو ہر موجود تھے اور وہ اُس وقت بھی بہادر اور دلیر تھے۔لیکن ہر دفعہ مسلمانوں کے سامنے پیٹھ پھیر کر بھاگنے پر مجبور ہوتے تھے۔مگر جب وہ مسلمان لشکر میں آگئے تو انہوں نے ایسے کار ہائے نمایاں کئے کہ یورپ اور امریکہ میں انکی سوانح حیات کے متعلق اور اُن کے کارناموں کے متعلق کتا ہیں لکھی گئیں۔جب تک وہ قبائلی سرداروں کے ساتھ تھے وہ ایک قبائلی سردار تھے۔اسلام لانے سے پہلے عمرو بن عاص اور خالد بن ولید کی حیثیت ایک قبائلی سردار کی سی تھی لیکن جب یہ لوگ اسلامی لشکر میں شامل ہوئے تو انہوں نے ایسی شہرت اور عظمت حاصل کی کہ آسمان کے ستاروں سے بھی آگے نکل گئے۔وہ صرف معلومہ دنیا کے کناروں تک ہی مشہور نہیں ہوئے بلکہ اُن کی شہرت دنیا کی زندگی اور وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتی چلی گئی اور آج ای