خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 201

خطبات محمود 201 سال 1947ء کوئی حق نہیں کہ وہ امداد کرنے والوں پر اعتراض کرے۔ہم جنبہ داری کی وجہ سے کسی قوم کی امداد نہیں کرتے بلکہ ہم ہر مظلوم کی امداد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔خواہ وہ کسی قوم اور کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔اس کے بعد میں جماعت کو ایک نہایت اہم امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے۔یہ کوئی سوسائٹی نہیں کہ جو اپنے لئے کچھ اصول طے کر کے کام کو چلا رہی ہو اور انہی اصولوں کے اندر اپنے کاموں کو محصور رکھتی ہو۔بلکہ ہر نیک کام کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے اور ہر بدی کو دور کرنا ہمارا فرض ہے۔اور اسلام کی تبلیغ کو اکناف عالم تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔ان اغراض کو پورا کرنے کے لئے ہی میں نے تحریک جدید جاری کی۔جس کے ماتحت مختلف سکیمیں کام کر رہی ہیں۔ان سکیموں کو چلانے کے لئے جماعت کے لوگوں سے میں نے وقف زندگی کا مطالبہ کیا تھا۔میرے مطالبہ پر جن لوگوں نے زندگیاں وقف کی ہیں اُن میں سے بعض کو مبلغ بنایا گیا ہے، بعض کو مدرس بنایا گیا ہے اور بعض کو دوسرے کاموں پر لگا یا بچے گیا ہے۔ایک واقف زندگی چپڑاسی بھی ہو سکتا ہے۔ایک واقف زندگی کلرک بھی ہو سکتا ہے۔ایک واقف زندگی خزانچی بھی ہو سکتا ہے۔ایک واقف زندگی صناع بھی ہو سکتا ہے اور ایک واقف زندگی تاجر بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ مختلف لوگوں کو مختلف کاموں پر لگا دیا گیا ہے اور لگایا جا رہا ہے۔بعض نوجوانوں کو مبلغ بنا کر ہندوستان سے باہر بھیجا گیا ہے۔اور کچھ ہندوستان میں ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے بھائیوں کی جگہ جا کر کام کریں۔اور کچھ ایسے ہیں جو دفاتر میں بطور انچارج کام کر رہے ہیں اور کچھا کا ؤنٹینسی (ACCOUNTANCY) کا کام کر رہے ہیں اور کچھ زمیندارہ کاموں کی نگرانی پر لگے ہوئے ہیں اور کچھ سلسلہ کے کارخانوں میں نگر ان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔لیکن ایک حصہ ایسا تھا جو کہ وقف زندگی کے مطالبہ میں شامل نہ ہو سکتا تھا اور وہ زمینداروں کا طبقہ تھا۔کئی دفعہ زمینداروں نے مجھے کہا کہ کیا ہمارے لئے بھی کوئی صورت وقف زندگی کی ہے؟ ہم لوگ ان پڑھ ہیں۔زندگی وقف کرنے کی صورت میں ہم سلسلہ کا کوئی کام سرانجام دے سکیں گے یا نہیں ؟ میں انہیں جواب دیتا تھا کہ میرے ذہن میں ابھی تک کوئی صورت ایسی نہیں آئی اور میں برابر غور کرتا چلا آ رہا تھا۔چنانچہ اب تبدیل شدہ حالات کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے زمینداروں کے لئے بھی موقع پیدا کرد۔ہے