خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 113

خطبات محمود 113 سال 1947ء اُس وقت تک اپنے فضلوں کے دروازے کھولنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اور اتنے احسانات اور تنے فضلوں کے باوجود جس شخص کے دل میں کامل ایمان اور کامل تو کل پیدا نہیں ہوتا وہ نئی زندگی پانے کا مستحق نہیں ہوتا۔اور اُس کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل نازل نہیں ہوتا۔اور وہ شخص اس قابل نہیں کہ اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا ہاتھ بڑھے۔پس اعلیٰ قربانی کے مقام کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو اور اپنے نفسوں میں تبدیلی پیدا کرو۔ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ہم قربانی کر کے دنیا کی بہترین قوم بھی بن سکتے ہیں اور قربانی سے اعراض کر کے دنیا کی ذلیل ترین قوم بھی بن سکتے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین وجود بھی بن سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا کر مغضوب علیہم گروہوں میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل سمجھ اور آنکھیں دی ہیں۔ہم ان دونوں رستوں میں امتیاز کر سکتے ہیں۔اور اگر باوجود عقل رکھنے کے ہم ان دونوں رستوں میں فرق کرنے کو تیار نہیں تو ہماری تباہی اور بر بادی میں کوئی شک نہیں۔اور اس تباہی اور بربادی کا الزام اللہ تعالیٰ کی ذات پر نہیں آئیگا بلکہ ہماری اپنی ذات پر آئے گا کیونکہ ہم نے خود ذلت اور بربادی کی تحریر پر دستخط کئے ہوں گے۔اس سے اللہ تعالیٰ سے کسی قسم کا شکوہ کرنا بے جا اور نا واجب ہوگا کیونکہ ہم نے خود اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ر ڈ کیا ہو گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس ناپاک انجام سے بچائے اور ہر قسم کی کمزوریوں سے نجات دے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اپنے آپ کو فنا کر کے ایک ایسی زندگی حاصل کریں جو کہ انسان کو غیر فانی وجود بنا دیتی ہے۔“ حضور جب خطبہ ثانیہ کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا:۔جیسا کہ قاعدہ ہے کہ شوری کے موقع پر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائی جاتی ہے آج بھی نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھاؤں گا اور اس کے بعد کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔ان میں سے پہلا جنازہ بابو عبد الرحمن صاحب امیر جماعت انبالہ کا ہے۔بابو عبد الرحمن صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی تھے اور نہایت مخلص اور نیک انسان تھے۔منشی رستم علی صاحب کی تبلیغ سے آپ احمدی ہوئے اور پھر اس کے بعد تمام عمر جماعت کی تربیت میں مصروف رہے۔ان کی زندگی نیکی اور تقویٰ کی ایک مثال تھی۔ایسے لوگوں کا گزر جانا قوم کے