خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 81

*1946 81 خطبات محمود ذریعہ اور جماعتوں کے تبلیغی سیکرٹریوں کے ذریعہ جماعتوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعتوں سے یہ عہد لیں کہ ہم نے بحیثیت مجموعی تم سے اتنے احمد ی اس سال لینے ہیں۔اور یہ صرف جماعتوں سے ہی بحیثیت جماعت عہد نہ لیا جائے بلکہ جماعتوں سے بحیثیت جماعت الگ عہد لیں اور افراد سے بحیثیت افراد الگ عہد لیں اور پھر وہ اس کی نگرانی کریں۔وجہ کیا ہے کہ ایک جماعت اپنا چندہ پورا دیتی ہے تو سمجھ لیتی ہے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔حالانکہ اصل چندہ تو نیکی کا چندہ ہے۔دیکھنا تو یہ ہے کہ ان چندوں کے ساتھ ساتھ وہ کس حد تک اپنے جوشوں کو قائم رکھتے ہیں، کس حد تک وہ اپنی اصلاح کرتے ہیں اور کس حد تک وہ تبلیغ کرتے ہیں اور پھر کس حد تک اس کے نتائج نکلتے ہیں۔اگر اس رنگ میں تبلیغ کی جائے اور ان چندوں کی طرح یہ چندے بھی باقاعدگی سے ادا کئے جائیں اور ہر فرد یہ چندہ ادا کرے تو ان چندوں کی طرح جن کی تعداد بیر و نجات و مرکز کے چندوں کو ملا کر پچیس لاکھ سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔یہ بھی پچیس لاکھ سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔پس یہ کام ایسا مشکل نہیں صرف ارادے، عزم اور صحیح طریقے کی ضرورت ہے۔پس میں مقامی کارکنان کو بھی توجہ دلاتا ہوں اور قادیان کے افراد اور انجمن کو بھی کہ وہ قادیان کے ارد گرد کی تبلیغ کو وسیع کرنے کے متعلق سوچیں، سکیمیں بنا کر میرے سامنے پیش کریں اور پھر ان پر عمل کریں۔اسی طرح میں بیر و نجات کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وقت نازک ہے۔اس سال میں سے کچھ دن ضائع ہو گئے ہیں اس لئے ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔الیکشن میں جماعت اگر چہ دینی اثر کے ماتحت لگی رہی مگر بہر حال وہ دنیوی کام تھا۔ہمیں اب اس جہاد صغیر سے ہٹ کر جہاد کبیر کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کے نام کو جلد سے جلد ہندوستان اور ہندوستان سے باہر تمام دنیا میں پھیلا دیں اور ہماری آنکھیں اس نظارے کو دیکھ لیں کہ زین العابدین کی طرح بیمار و بے کس دین خدا تعالیٰ کے حضور میں بھی اور دنیا کی نگاہ میں بھی پھر نئے سرے سے طاقتور اور آزاد ہو گیا ہے۔“ (الفضل 7 مارچ 1946ء) 1 موضوعات ملا علی قاری صفحہ 40 مطبوعہ دہلی 1346ھ 2 مسلم کتاب صفات المنافقين باب تحريش الشيطان (الخ)