خطبات محمود (جلد 27) — Page 614
*1946 614 خطبات محمود اس زمانہ میں پوری ہو رہی ہیں اور انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسیح موعود آئے گا۔جب وہ ساری کی ساری خبریں پوری ہو چکی ہیں تو مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کی خبر بھی ضرور پوری ہو چکی ہو گی۔مسیح موعود کی آمد کے زمانہ کی جتنی علامتیں حدیثوں میں بیان ہوئی ہیں وہ سب پوری ہو چکی ہیں۔جب وہ تمام علامتیں آگئیں تو ہم ایک مخالف سے کہہ سکتے ہیں کہ لاؤ مسیح کہاں ہے ؟ جب خدا تعالیٰ کہتا ہے ، خدا تعالیٰ کا رسول (صلی یک ) کہتا ہے کہ اس زمانہ میں مسیح آئے گا تو تم کون ہوتے ہو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی یم کو جھٹلانے والے ؟ اب یا تو تمہیں مسیح اور مہدی لانے پڑیں گے یا یہ مانا پڑے گا کہ حضرت میر زاصاحب علیہ الصلوۃ والسلام سچے تھے۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ زمانہ مسیح کا ہے۔خدا تعالیٰ کے رسول (صلی ) نے فرمایا ہے کہ یہ زمانہ مسیح کا ہے۔اگر حضرت میرزا صاحب علیہ الصلوۃ و السلام (نَعُوْذُ بِالله ) کچے نہ تھے تو تم سچے مسیح کو پیش تو کرو۔یہ ایک ایسی زبر دست دلیل ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔وہ مجبور ہو جائے گا کہ یا تو وہ تمہاری پیش کردہ صداقت کو مان لے یا تمہارے ساتھ بحث کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور یہی تمہاری فتح کی علامت ہو گی۔اس صداقت کو لے کر ہم جہاں بھی چاہیں لڑیں ہمیں ضرور کامیابی ہو گی۔(انشاء اللہ)۔جب رسول کریم صلی ای ام بدر کے موقع پر جنگ کے لئے نکلے تو اس وقت یہ حالت تھی کہ بدر کے میدان میں پانی کے چشمے کے ایک طرف ریت تھی اور دوسری طرف میدان تھا۔اور دشمن پانی کے چشمہ سے کچھ فاصلے پر ایک چٹیل میدان میں اتر پڑا تھا۔دشمن نے یہ اندازہ لگایا کہ ہم اپنے میدان میں اترتے ہیں۔جب مسلمان حملہ کریں گے تو چونکہ ہمارے میدان کی زمین سخت ہو گی ہم آسانی سے بھاگ دوڑ کر سکیں گے۔ہمارے پیدل اور سوار دستوں کو ادھر اُدھر حرکت کرنے میں آسانی ہو گی۔اور چونکہ ریت نہ ہو گی ہم آسانی سے مسلمانوں کو تباہ کر سکیں گے۔جب رسول کریم صلی لی اور وہاں پہنچے تو ایک صحابی نے آپ کو مشورہ دیا کہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آگے بڑھ کر قریش سے قریب ترین چشمہ پر قبضہ کر لیا جائے کیونکہ جب پانی کا چشمہ ہمارے قبضہ میں ہو گا اور دشمن کو پانی نہیں مل سکے گا تو آخر دشمن مجبور ہو جائے گا کہ بھاگ نکلے یا ہتھیار ڈال دے۔رسول کریم صلی الیم نے اپنے صحابی کی اس تجویز کو