خطبات محمود (جلد 27) — Page 509
خطبات محمود 509 *1946 مثل مشہور ہے کہ ایک استاد لڑکوں کو بہت مارا پیٹا کر تا تھا۔سب لڑکوں نے مشورہ کیا کہ آج کوئی ایسی بات کی جائے جس سے وہ پڑھائی کی طرف توجہ نہ دے سکے۔آخر یہ طے ہوا کہ آج ماسٹر صاحب کو یہ وہم ڈالا جائے کہ آپ بیمار ہیں۔چنانچہ جوں جوں لڑکے استاد کے سامنے حاضر ہوئے باری باری ہر ایک لڑکے نے یہ کہنا شروع کیا کہ آج آپ کی طبیعت خراب معلوم ہوتی ہے۔کیا آپ بیمار ہیں ؟ پھر دوسرا اُٹھا اُس نے بھی اسی طرح کہا۔پھر تیسرا آیا اُس نے بھی اسی طرح کہا کہ کیا آپ بیمار ہیں؟ پہلے تو اس نے گالیاں دینی شروع کیں۔لیکن لڑکے اپنے مشورہ کے مطابق یہ کہتے چلے گئے کہ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ کی طبیعت کچھ خراب سی معلوم ہوتی ہے۔جب پانچ سات لڑکوں نے کہا تو آہستہ آہستہ استاد جی کا غصہ فرو ہو گیا۔تو انہوں نے کہا مجھے کچھ نہیں ہوا، تم اپنا کام کرو۔آخر جب پانچ دس اور لڑکوں نے یہی بات کہی تو استاد صاحب کہنے لگے۔یونہی کچھ طبیعت خراب سی معلوم ہوتی ہے۔یہ کہہ کر لڑکوں کو رخصت دی اور گھر جا کر چار پائی پر لیٹ گئے۔یہ ایک قصہ ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو باتیں کثرت سے کان میں پڑتی رہیں اُن پر انسان کو یقین ہو جاتا ہے۔تم تجربہ کر کے دیکھ لو۔اگر ایک بات کے متعلق دس آدمی کہنا شروع کر دیں تو جو شخص اُن کے منہ سے سنے گاوہ اسے ایسے طور پر آگے جا کر بیان کرے گا گویا اُسے اُس نے خود دیکھا ہے اور اس کے پاس بہت سے دلائل و شواہد موجود ہیں حالانکہ وہ ساری شنید ہو گی۔اور اگر اس سے کہا جائے کہ یہ بات اس طرح نہیں ہے۔تو وہ کہتا ہے لوگ یو نہی کہتے ہیں، ساری دنیا یو نہی کہتی ہے۔گویا وہ پانچ دس آدمی ساری دنیا بن جاتے ہیں۔تو یہ واقع ہے کہ جو باتیں بار بار کانوں میں پڑیں آہستہ آہستہ ان کا اثر دلوں پر ہو جاتا ہے۔اب اگر مسلمانوں کے کانوں میں یہ آواز بار بار پڑتی رہے کہ ہندو مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں اور وہ مسلمانوں کو مٹانا چاہتے ہیں تو آہستہ آہستہ یہ بات اس طرح ان کے دلوں میں راسخ ہو جائے گی کہ اس کو نکالنا مشکل ہو جائے گا۔یا اگر ہندوؤں سے یہ کہا جائے کہ مسلمان تمہارے متعلق بد ارادے رکھتے ہیں اور تمہارے مٹانے کے درپے ہیں اور یہ آواز بار بار ان کے کانوں میں پڑتی رہے تو پھر ان خیالات کا ان کے دلوں سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔اب صلح کرانے والے بھی انسان ہی ہیں، ان کے دوست بھی ہیں اور ان کے نوکر چاکر