خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 487

*1946 487 خطبات محمود تھپڑ مارے تو تُو دوسرا بھی پھیر دے“ کس حد تک عمل کرتی ہے۔آجکل عیسائی ممالک کی حالت یہ ہے کہ اگر کوئی ملک ان کی طرف انگلی اٹھائے تو وہ سارے ملک پر قبضہ کر لیتے ہیں۔بنگال پر قبضہ کرنے کی وجہ انگریز یہ بیان کرتے ہیں کہ بنگالی بادشاہ نے ایک سو بیس انگریز بلیک ہول میں بند کر کے مار دیئے تھے۔اول تو یہ قصہ سرے سے ہی غلط ہے۔لیکن اگر اسے صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو انگریزوں کو چاہئے تھا کہ وہ انجیل کی تعلیم پر عمل کرتے اور ایک سو بیس کی بجائے دوسو چالیس آدمی پیش کر دیتے کہ ان سے بھی پہلوں جیسا سلوک کیا جائے۔اور مسیح کا یہی حکم باقی عیسائی دنیا کے لئے بھی ہے۔مگر آج تک اس پر کبھی عمل ہوتے نہیں دیکھا۔فرانس کو چاہئے تھا کہ جب جرمنی اُس کے ملک میں دخل اندازی کر رہا تھا ملک کی حکومت اُس کے سپر د کر دیتا اور خود ایک طرف ہو جاتا۔یا امریکہ جاپان کی بات مان لیتا اور اپنے مقبوضات اُس کے سپرد کر دیتا۔لیکن عیسائیوں میں سے کوئی حکومت بھی ایسا کرنے کو تیار نہیں۔اس سے پتہ لگتا کہ حقیقت میں انجیل کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔نرمی کی تعلیم کو سن کر لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں اور محبت کی تعلیموں کو سن کر لوگ اُن کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔لیکن جب میدان عمل میں اترتے ہیں تو ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان پر عمل کرنا محال ہے۔ایک عرصہ سے گاندھی جی یہ اعلان کرتے چلے آتے ہیں کہ آپس میں لڑنا نہیں چاہئے اور انسان کے قانون کے ماتحت فوج کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔اب گورنمنٹ بدلی ہے تو چاہئے تھا کہ ساری فوجوں کو جواب مل جاتا کہ جاؤ گھروں میں جا کر بیٹھو لیکن بجائے پہلی فوجوں کو فارغ کرنے کے میں دیکھتا ہوں کہ۔7I۔N۔A کی دوبارہ بھرتی پر زور دیا جارہا ہے۔اور بجائے اس کے کہ فوجوں کو گھر بھیج دیا جاتا فوجوں کی تعداد کو بڑھانے کی طرف گورنمنٹ کی توجہ نظر آتی ہے۔ان باتوں کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ گاندھی جی کی وہ باتیں صرف کہنے کے لئے تھیں عمل کرنے کے لئے نہ تھیں۔ورنہ جہاں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مرن برت 8 رکھنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اتنے بڑے اصل کے ٹوٹنے پر کیوں مرن برت نہ رکھتے۔پس ایسی تمام تعلیمیں کہنے کے لئے ہیں عمل کرنے کے لئے نہیں۔لیکن قرآن مجید دعویٰ کرتا ہے کہ خدا وہ ہے جس نے فرقان نازل کیا ہے جو کہ