خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 262

*1946 262 خطبات محمود سة کڑوں اور ہزاروں انسان دیوانہ وار بھاگتے چلے جاتے ہیں اور جن میں طاقت اور قوت نہیں ہوتی وہ بھی اندھا دھند قربانی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔لیکن روحانی موت اور روحانی غرق اور روحانی احراق کو دیکھتے ہوئے لاکھوں اور کروڑوں انسان آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور اپنے تباہ ہونے والے بھائی، ایسے تباہ ہونے والے بھائی کی مدد سے دریغ کرتے ہیں جس کی تباہی دائمی اور ابدی ہے۔وہ اس جان کے بچانے کی تو کوشش کرتے ہیں جس نے آج نہیں تو کل مر جانا ہے۔وہ اس گھر کے بچانے کی تو کوشش کرتے ہیں جس نے آج نہیں تو کل گر جانا ہے مگر وہ اس روح کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہمیش کی زندگی مقرر فرمائی ہے۔وہ اس گھر کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے جو دائمی ہے۔رسول کریم صلی الیکم فرماتے ہیں۔ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے اس کا ایک گھر دوزخ میں بنایا جاتا ہے اور ایک جنت میں۔انسان بجوں جوں نیکیوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے اس کی جنتی گھر کے ساتھ وابستگی ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کا دوزخی گھر دوزخیوں کو دے دیا جاتا ہے اور اگر وہ بدیوں کی طرف جاتا ہے تو اس کا جنتی گھر اور جنتیوں کو مل جاتا ہے یا اس کو مل جاتا ہے جس پر اس نے ظلم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔تو جب ایک شخص روحانیت سے دور ہو کر ایسے کام کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوتے ہیں تو گویا اس کا جنت کا گھر گرایا جارہا ہو تا ہے۔ایسا گھر جس کو اگر بچالیا جائے تو وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے محفوظ رہے۔اگر ایک شخص گمراہی کے گڑھے میں گرتا ہے تو گویا ایک ایسی جان غرق ہونے لگتی ہے جس کے لئے ہمیشہ ہمیش کی زندگی مقدر کی گئی تھی۔اگر اسے بچا لیا جائے تو ایک ایسی جان کو بچایا جا سکتا ہے جس کے لئے کوئی موت نہیں۔مگر لوگ معمولی معمولی صدموں اور تکلیفوں پر تو بے کل ہو جاتے ہیں لیکن اس عظیم الشان بات کے متعلق لوگوں میں بے چینی اور کرب کم پید اہوتا ہے۔اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس قسم کی مذہب سے ڈوری اور منافرت پیدا ہو چکی ہے اس کی مثال پہلے زمانہ میں نہیں ملتی۔گویا جنت کے گھر گرائے جارہے ہیں اور دوزخ کی آبادی کے سامان پیدا کئے جارہے ہیں۔مگر وہ جو دس روپے کے ایک جھونپڑے کو بچانے کے لئے ایک محلہ سے دوسرے محلہ کو دوڑتے ہیں وہ جنت کا مکان بچانے کے لئے اس قسم کی