خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 247

*1946 247 خطبات محمود بغض اور تنافر کا دلوں میں نشان تک نہ پایا جاتا ہو، تو پھر پچیس فیصدی کیا ایک فیصدی کا بھی کوئی سوال نہیں رہتا۔اقلیت بڑی خوشی سے اکثریت کو کہہ سکتی ہے کہ آپ ہمارے نمائندے ہیں آپ جو چاہیں فیصلہ کر دیں ہمیں منظور ہے۔خرابی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ملک کی ذہنیت اس قسم کی نہیں۔ابھی تک وہ باتیں سیاست کی کرتے ہیں مگر سوچتے مذہب کے اثر کے ماتحت ہیں۔ہر لفظ جو ان کے منہ سے نکلتا ہے سیاسیات میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے لیکن ہر فکر جو ان الفاظ کے پیچھے کام کر رہا ہوتا ہے وہ خالص مذہبی ہوتا ہے۔گویا ایک دو غلی سی کیفیت ہمارے ملک میں پید اہو چکی ہے۔اور لوگوں کی ویسی ہی مثال ہے جیسے پرانے زمانہ میں بنیے آپس میں لڑا کرتے تھے۔ہم نے خود اس قسم کی بنیوں کی لڑائی دیکھی ہے۔بنیا چونکہ تاجر پیشہ ہوتا ہے، بہادری کی روح اس میں نہیں ہوتی، جب لڑائی ہوتی ہے تو ایک بھی پنیری اُٹھالیتا ہے اور دوسرا بھی۔ایک شخص گالی دیتا ہے تو دوسرا پنیری اٹھائے کودنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے اب کے گالی دے تو میں اس پنیری سے تیرا سر پھوڑ دوں گا۔وہ پھر گالی دیتا ہے تو یہ پھر گود کر کہتا ہے اب کے گالی دے تو تجھے مزا چکھاؤں۔اس طرح ایک گالیاں دیتا جاتا ہے اور دوسرا یہی کہتا رہتا ہے کہ اب کے گالی دے تو تجھے بتاؤں کہ کس طرح گالی دی جاتی ہے۔دو منٹ کے بعد پہلا شخص پھر اشتعال میں آکر گالی دے دیتا ہے اور یہ پنیری اٹھا کر پھر کودنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے اگر اب کی دفعہ گالی دی تو تیر اسر پھوڑ دوں گا۔میں نے دیکھا ہے کہ ایسی حالت میں بعض دفعہ ایک شخص اشتعال میں آکر آگے کی طرف بڑھتا ہے تو دوسرا شخص کود کر فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ اب کے گالی دے تو تجھے مزہ چکھاؤں۔اس قسم کا نظارہ سخت تکلیف دہ ہوتا اور اخلاق کی گراوٹ پر دلالت کیا کرتا ہے۔ہمارے ملک کی دو بڑی قومیں ہیں اور جہاں تک انصاف کا سوال ہے ، جہاں تک عقل کا سوال ہے وہ دونوں سیاست کے لحاظ سے ایک دوسری سے متحد ہو سکتی ہیں۔مگر جب ذہنیت اس قسم کی ہو کہ ایک نے بھی پنیری اٹھائی ہوئی ہو اور دوسرے نے بھی پنیری اٹھائی ہو اور جب ان میں سے ایک شخص حملہ کے لئے آگے بڑھنے لگے تو دوسرا شخص یہ سوچ رہا ہو کہ میں اب کو د کر کتنا پیچھے ہٹوں گا۔تو ایسی حالت میں آپس میں کہاں اتحاد ہو سکتا ہے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ منہ سے تو سیاست کی