خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 231

$1946 231 خطبات محمود م الله سة لوگ سمجھتے ہیں کہ انگریزوں نے راشن سسٹم جاری کیا ہے حالانکہ رسول کریم صلی ا ہم آج سے تیرہ سو سال پہلے اس پر عمل فرما چکے ہیں۔آپ نے سب چیزیں جمع کر کے برابر برابر تقسیم کرنی شروع کر دیں۔مثلاً اگر فی کس پانچ کھجوریں حصہ میں آتی تھیں تو جس شخص نے دس کھجوریں دی تھیں اس کو بھی پانچ ہی دی جاتیں اور جس نے ایک کھجور بھی نہ دی تھی اس کو بھی پانچ کھجوریں دی جاتیں۔پس جب زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے اُس وقت مالدار اور غیر مالدار کا سوال نہیں رہتا بلکہ ہر فرد جو اپنے دوسرے بھائی کی کچھ مدد کر سکتا ہے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بھائی کی جان بچانے کی کوشش کرے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت کم لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے اور بیرونی جماعتوں نے تو اس کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں۔حالانکہ غلہ کی قیمت کے بڑھ جانے سے زمینداروں کی حالت پہلے کی نسبت بہت اچھی ہو گئی ہے اور اس سال پچھلے سالوں کی نسبت گندم کی قیمت میں بھی پچیس فیصدی کا اضافہ ہو گیا ہے۔عام طور پر زیادہ خرچ کھانے کا ہی ہوتا ہے۔لیکن گندم زمیندار کے گھر کی ہوتی ہے وہ اپنے لئے ایک سال کا خرچ گندم میں سے رکھ لیتا ہے اور باقی بیچ ڈالتا ہے۔فرض کرو ایک زمیندار کی آمد پہلے ایک سو روپیہ تھی تو آب گرانی کی وجہ سے اس کی آمد کئی سو روپیہ ہو گئی ہے۔گو اس سال بے شک فصلیں کم ہوئی ہیں لیکن گندم کی قیمت میں جو پچیس فیصدی کا اضافہ ہو گیا ہے وہ اس کمی کو پورا کر دیتا ہے۔بہر حال زمینداروں کو اس معاملہ میں کوئی نقصان نہیں رہا۔مصیبت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو گندم خرید کر کھاتے ہیں۔میں نے پچھلے سالوں میں بھی تحریک کی تھی کہ زمینداروں میں سے جس کی گندم سو من ہو وہ ایک من غرباء کے لئے دے دے۔میں سمجھتاہوں کہ ہماری جماعت کا تین چار ہزار کے قریب مربع ہے۔اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس میں سے ایک ہزار مربع میں گندم ہوئی گئی تھی اور دس من فی ایکڑ اوسط رکھ لی جائے تو اڑھائی لاکھ من گندم ہو جاتی ہے۔اگر سو من پر ایک من غلہ لیا جائے تو اڑھائی ہزار من گندم ہمیں مربع والے زمینداروں سے نہایت آسانی کے ساتھ مل سکتی ہے۔اور یہ گندم قادیان کے غرباء کے لئے کافی ہے۔ہمیں چھوٹے زمینداروں پر