خطبات محمود (جلد 27) — Page 126
*1946 126 خطبات محمود روپیہ دورو پیہ ماہوار چندہ دے دیتا ہے۔لیکن ایک غیر احمدی کے لئے جو مالی لحاظ سے بہت اچھا ہو روپیہ دو روپیہ ماہوار دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔اگر ان میں سے کوئی شخص قومی کام کے لئے ایک سو روپیہ دے دے تو اخباروں میں شور مچ جاتا ہے کہ فلاں رئیس نے ایک سو روپیہ قومی کام کے لئے دیا ہے حالانکہ جو شخص ایک سو مربعے کا مالک ہے اس کے لئے ایک سو روپیہ دینا کو نسی قربانی ہے۔ہمارے ہاں ایک غریب آدمی بھی کئی سو روپیہ چندہ دے دیتا ہے جو اس کی حیثیت سے بہت بڑھ کر ہوتا ہے لیکن اس کا نام کسی اخبار میں نہیں چھپتا۔اور اگر وہ دے کر اس روپیہ کا دوبارہ نام بھی لے تو ساری جماعت بر امناتی ہے کہ تم نے خدا تعالیٰ کو دیا ہے کسی پر احسان نہیں کیا۔لیکن باوجود اتنی قربانیوں کے ہمارے ذمہ جو کام ہے وہ اتنابڑا ہے کہ اس کے مقابل میں ہمارے سامان بہت تھوڑے ہیں اور وہ کام صرف اس روپے سے نہیں چل سکتا۔اس سال تحریک جدید کے دفتر دوم میں ستر ہزار کے وعدے آئے ہیں اور دفتر اول میں دولاکھ پنتالیس ہزار کے وعدے آئے ہیں۔اور دونوں دفتروں کے وعدے تین لاکھ پندرہ ہزار بنتے ہیں اور ابھی ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے وعدے باقی ہیں۔اگر وہ شامل کر لئے جائیں تو یہ پونے چار لاکھ کے وعدے ہو جائیں گے۔لیکن کیا تحریک جدید اس روپے سے تمام غیر ممالک میں تبلیغی مراکز قائم کرانے میں کامیاب ہو سکتی ہے ؟ ہمیں اس وقت ہزاروں بلکہ لاکھوں مبلغوں کی ضرورت ہے جن کو ہم غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے مقرر کریں۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں اس بات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ ہم ان ممالک کے اخراجات اس چندے سے پورے کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ غیر ممالک کے اخراجات ہمارے ملک کی نسبت پانچ چھ گنے ہیں۔ہمارے مبلغ یہاں ایک سو روپیہ میں گزارہ کر لیتے ہیں لیکن چین اور دوسرے ممالک میں ایک مبلغ کا پانچ سو میں بھی گزارہ ہونا مشکل ہے۔یہی حال ایران کا ہے۔وہاں بھی چیز میں بہت زیادہ مہنگی ہیں۔یہاں روپے کی دوسیر کھانڈ بکتی ہے لیکن وہاں دس روپے سیر کھانڈ ملتی ہے۔یہاں ہمارا مبلغ دال روٹی کھا کر پچاس روپے میں بھی گزارہ کر لیتا ہے لیکن وہاں دال روٹی کھا کر بھی پانچ سو میں بھی گزارہ نہیں ہو سکتا۔لیکن چونکہ ہم نے ان ممالک میں تبلیغ کرنی ہے اس لئے وہاں کے اخراجات بھی برداشت کرنے ہوں گے۔اگر ہم ایک ہزار مبلغ في الحال