خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 115

*1946 115 خطبات محمود پس ابتداء میں بعض چیزوں کی قیمت و قدر لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہوتی ہے لیکن بعد میں جب ان چیزوں کی حقیقت لوگوں پر واضح ہو جاتی ہے تو وہ لا کھوں بلکہ کروڑوں روپیہ صرف کر کے اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔پس آج "الفضل“ لوگوں کی نظر میں وہ اہمیت نہیں رکھتا جو آئندہ اس کو حاصل ہونے والی ہے۔پس اس بارہ میں پھر یہاں کی جماعتوں کو اور دوسرے صوبوں کی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اخبار کا خرید ناہر جماعت اور ہر مستطیع کے لئے ضروری ہے۔جو ایسا کرتا ہے حَبْلُ اللہ کو پکڑنے پر قادر ہو جاتا ہے۔جو ایسا نہیں کرتا اس کا ہاتھ حَبلُ اللہ سے جد اہو جاتا ہے اور اس کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے۔جو لوگ اخبار منگوائیں انہیں میں نے کئی بار یہ ہدایت دی ہے کہ جمعہ کے دن ” الفضل“ سے میر اخطبہ پڑھ کر سنایا جائے تاکہ جماعت کو علم ہو تارہے کہ ان کا امام ان سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔میں نہیں جانتا کہ اس پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔اس کے بعد اسی سلسلہ میں میں تبلیغ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔پچھلے سال بھی میں نے جماعت کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی۔چنانچہ اس سال کنری میں جلسہ بھی ہوا ہے اور اس جلسہ کے نتیجہ میں کچھ سندھی آدمیوں نے بیعت بھی کی۔لیکن ابھی بہت بڑا کام باقی ہے اور ایک بہت بڑی خلیج ہے جو ہمارے اور سندھیوں کے درمیان حائل ہے۔اس خلیج کو دور کرنا کوئی آسان کام نہیں۔اس وقت مسجد میں سوڈیڑھ سو کے قریب آدمی ہوں گے لیکن ان میں سے سندھی کتنے ہیں؟ صرف پانچ چھ ہوں گے۔ممکن ہے ایک دو اس سے زیادہ ہوں۔مگر کیا پانچ چھ فیصدی ہونے کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے اپنے فرض کو ادا کر دیا ہے ؟ نہیں۔بلکہ یہ تعداد صاف طور پر بتاتی ہے کہ ہم اس فرض کے ادا کرنے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔اس وقت چاہئے یہ تھا کہ 150 میں سے 130 یا 140 سندھی ہوتے اور دس پندرہ پنجابی ہوتے۔اگر یہ حالت ہو جائے کہ ہمارے جلسہ یا جمعہ میں 100 میں سے 95 سندھی ہوں اور پانچ دوسرے آدمی ہوں اور 1000 میں سے 950 سندھی ہوں اور پچاس دوسرے آدمی ہوں۔اور 10000 میں سے 9500 سندھی ہوں اور 500 پنجابی یا دوسرے آدمی ہوں تو ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارا قدم اب ترقی کی طرف اٹھ رہا ہے۔کیونکہ جب سندھ میں کوئی غیر احمدی مولوی