خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 93

*1946 93 93 خطبات محمود ایک درجن کے قریب ہوں گے مگر بہر حال ایک درجن ایسے آدمیوں کے پیدا ہو جانے کو بھی میری طبیعت برداشت نہیں کر سکتی۔اصل چیز تو یہ ہے کہ اگر دس کروڑ آدمی جماعت میں ہوں یا سو کروڑ ہوں اور جماعتی طور پر ایک فیصلہ ہو جائے تو ایک شخص بھی اس کے خلاف نہ جائے۔کجا یہ کہ چند لاکھ کی جماعت میں سے دس بارہ یا پندرہ ہیں ایسے ہوں جو اپنے مقامی جماعت کے فیصلہ اور مرکز کی تائید کے بعد بھی اس کے الٹ کرنے لگ جائیں۔دنیا میں بھی یہی دستور ہے کہ جب اکثریت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اقلیت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔کیا وجہ ہے کہ ہم میں بعض اس کے خلاف ہوں۔ڈیمو کریسی کے یہی معنی ہوتے ہیں۔کو نسلوں میں بھی وہپ (Whip) 3 مقرر کرتے ہیں اور وہ یہی ہوتا ہے کہ پارٹی ایک فیصلہ کرتی ہے جس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے یہ پارٹی کا فیصلہ ہے۔اس کے بعد وہپ جاری کر دیا جاتا ہے اور اس پارٹی کے ہر ممبر کو وہ فیصلہ بھیج دیا جاتا ہے۔اس کے بعد ہر ممبر پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ یارٹی کے فیصلہ کی تائید کرے اور اس کے خلاف نہ چلے۔سیاسی معاملات میں بھی یہ طریق جاری ہے۔دنیوی معاملات میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔دینی معاملات میں بے شک خواہ اکثریت یہ کہے کہ ہم اسلام کو جھوٹا سمجھتے ہیں تب بھی اس کی اتباع ضروری نہیں ہو گی کیونکہ یہ آخرت کا معاملہ ہے اور ہر انسان اپنے اعمال کے متعلق خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہو گا لیکن اگر دین کا معاملہ آئے تو کثرت کی اتباع کرنی چاہئے سوائے اس کے کہ اس سے کوئی دینی رخنہ پیدا ہوتا ہو یا اخلاقی طور پر کوئی نقص ہو یا دنیوی طور پر کسی شدید نقصان کا احتمال ہو۔پس تین نقائص ہیں جو اس دفعہ ہمیں معلوم ہوئے ہیں۔ایک یہ کہ بعض سر کردہ آدمی بھی نفسانیت کے پیچھے چلے اور حقیقتاً انہوں نے سلسلہ کے مفاد کو نہیں دیکھا اور ظاہر یہ کیا ہے کہ وہ گویا جماعتی فیصلہ کی اتباع کر رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ کچھ لوگوں نے اس موقع کو فساد اور جھگڑے کا موجب بنایا اور جماعتی اتحاد کو الیکشن کے تابع کر دیا۔کچھ لوگوں نے جماعتی فیصلہ کے خلاف بھی عمل کیا۔اب ہمارا یہ کام ہے کہ عقل اور تدبیر سے کام لیتے ہوئے اور خد اتعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے اس مرض کا علاج کریں جو ہمیں اپنی زندگی میں معلوم ہو گیا ہے۔اور کوشش کریں کہ جماعت ایسے مقام فرمانبرداری پر کھڑی ہو جائے کہ اگر مقامی جماعت کی اکثریت